مئی 24, 2020
  • Home
  • فیچرز
  • قادیانی گروپ ہر حکومت کی ضرورت کیسے بن جاتا ہے؟ اہم رپورٹ

قادیانی گروپ ہر حکومت کی ضرورت کیسے بن جاتا ہے؟ اہم رپورٹ

By on مئی 3, 2020 0 419 Views

احوال رپورٹ

اٹھائیس اپریل کو اچانک دو خبریں پاکستانی سوشل میڈیا پر نمودار ہوئیں۔ ان میں سے ایک تو نیب کے قانون میں ترامیم سے متعلق تھی اور دوسری تھی ختم نبوت کے حساس مسئلے کے حوالے سے، یعنی قادیانیوں کو اقلیت کمیشن  میں باقاعدہ طور پر سرکاری حیثیت میں شریک کرنے کا نوٹیفیکیشن۔ اس کے ساتھ ہی شکریہ عمران خان۔ مجاہد ختم نبوت عمران خان۔ اور تاریخ میں پہلی بار قادیانیوں کو سرکاری طور پر اقلیت قرار دینے والا عمران خان۔ جیسے ٹرینڈ سوشل میڈٰیا پر شروع ہوگئے۔ تین سوال بہت اہم ہیں۔

 قادیانیوں کے حوالے سے موجودہ حکومت میں بار بار متنازعہ معاملات کیوں سامنے آرہے ہیں؟

کسی بھی خبر کے آتے ہی فوری طور پر سوشل میڈیا ٹرینڈ کیسے شروع ہوتے ہیں اور کون کراتا ہے؟

 قادیانیوں کو اقلیت کمیشن میں شامل کرنا ختم نبوت پر  کیسے حملہ ہے؟

دراصل قادیانی گروپ ہر حکومت میں ہی شامل ہونے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اور ہر حکومت میں ہی گھس کر وہ  اپنے مذہبی معاملات طے کرانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ قادیانی گروپ حکومت میں گھسنے کے لئے دو طرح کے طریقے اختیار کرتا ہے۔ پہلا طریقہ  اپنے ذہین ترین اور اعلی  سماجی عہدوں پر پہنچنے والے افراد کے ذریعے حکومت کو متاثر کرنا ہے۔ پاکستان کی جو بھی حکومت ہو، اس کو کاروبار حکومت چلانے کے لئے ذہین افراد کی ضرورت رہتی ہے اور خاص طور  پر ایسے ذہین افراد جو سیاسی وابستگی نا رکھتے ہیں۔ قادیانی گروپ اپنا ذہین کیڈر تیار کرنے کے لئے ایک ایسے طریقے پر عمل کررہا ہے جو کہ نہایت پرانا ہے مگر ہے شرمناک۔ مرزائیوں کے  جد امجد غلام قادیانی نے اپنے لٹریچر میں جا بجا لکھا تھا  کہ اس کے گروپ کے افراد اعلی عہدوں پر پہنچیں گے اور معاشرے کے ممتاز لوگ ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ کوئی نکما۔ کند ذہن اور اوسط درجے کا آئی کیو رکھنے والا  ترقی نہیں کرسکتا، لہذا قادیانیوں نے اچھی بریڈنگ کا طریقہ اختیار کررکھا ہے۔ پر کشش مرزائی عورتیں جس جگہ بھی موجود ہوں، وہ معاشرے کے ممتاز، ذہین اور اعلی نسل کے افراد سے رابطے، دوستیاں کرتی ہیں، اولاد حاصل کرتی ہیں اور پھر الگ ہوجاتی ہیں۔ قادیانی گروپ کا ایجوکیشن اور کفالت کا شعبہ نہایت سرگرمی سے ایسے  بچوں کی کفالت اور سرپرستی کرتا ہے جو ذہین ہوں اور آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان بچوں کو باقاعدہ تیار کیا جاتا ہے اور رجحان کے مطابق ملکی اداروں، عالمی اداروں، تعلیم گاہوں میں لانچ کیا جاتا ہے اور نگرانی رکھی جاتی ہے، یہ بچے اپنی تربیت کے مطابق پوری زندگی اپنے گروپ سے وفادار رہتے ہیں۔ چونکہ یہ پورا نظام عام آدمی اور مسلمان کی نظر سے اوجھل ہے لہذا کسی کو  یہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر کیسے ایک چھوٹا سا گروپ ہر وقت کامیابی سے سازشیں کرتا رہتا ہے۔ سائنسی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ بچے باپ کے جینز سے ہر چیز وراثت میں حاصل کرتے ہیں۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے زمانہ قدیم سے شاہی خاندان اور سرکاری عمال کو  معاشرے میں سب سے بہترین رکھنے کے لئے اچھے، خوبصورت، ذہین اور طاقتور مرد اور عورتوں کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ یہودیوں کی موجودہ سیاسی نظریات رکھنے والی تنظیموں میں تو یہ نہایت ہی معروف عمل ہے۔قدیم چینی بادشاہوں نے تو باقاعدہ طور پر اس کو  سائنس کا درجہ دے رکھا تھا اور موجودہ ہندو تنظیم آر ایس ایس  نے نہایت بے شرمی سے اپنے مینی فیسٹو میں اس کا ذکر کیا ہے۔ آر ایس ایس نے اپنے مینی فیسٹو میں لکھا ہے کہ ہندو مرد اور عورتیں شکل اور شباہت کے علاوہ قد و قامت میں بھی نہایت کمتر اور بدصورت ہیں۔ اس کے مقابلے میں مسلم اقوام نہایت خوبصورت اور جسمانی طور پر طاقتور ہیں، اس وجہ سے متاثر ہو کر ہندو مسلمان ہوتے جا رہے ہیں۔ ہندووں کی اس کمی کو دور کرنے کے لئے ہندو عورتوں سے چن چن کر پرکشش عورتیں جمع کی جائیں اور ان کو خوبصورت اور طاقتور مردوں سے، چاہے وہ کسی بھی قوم یا مذہب کے ہوں، حاملہ کرایا جائے، پھر ان خوبصورت ہندو بچوں کو ہندو مندروں میں پرورش کیا جائے اور پھر ان سے بڑے پیمانے پر نسل بڑھائی جائے یوں چند صدیوں میں ہندو قوم دنیا کی خوبصورت ترین اور ذہین ترین قوم ہوگی۔ بات یہاں تک ہی نہیں بلکہ خود مسلمانوں میں بھی ایک فرقہ ایسا ہے جو کسی درجے پر اس عمل میں مذہبی جذبے سے سرگرم ہے۔اور اس کا کہنا ہے کہ خیر و برکت کے لئے مخصوص مذہبی خاندان کے پاس نسل لینے کے لئے اپنی عورتوں کو بھیجنے میں برکت ہی برکت ہے۔

بہر حال تویہ پہلا طریقہ ہے جس پر عمل کر کے قادیانی اپنے چند اراکین کو عالمی طور پر نہا یت اعلی عہدوں پر پہنچاتے ہیں۔ اور بہت سے اراکین کو ملکی، اوسط درجے کے عہدوں پر پہنچاتے ہیں۔ یہ دونوں گروپ مل کر کسی بھی حکومت میں چین بناتے اور لابنگ کرتے ہیں، کسی بھی حکومت کو کاروبار مملکت چلانے کے لئے جب ان کی خدمات حاصل ہوجاتی ہیں، یہ اپنے مذہبی معاملات پر عمل درآمد شروع کردیتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت میں قادیانی گروپ کو خاص حیثیت حاصل ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع سے ہی عمران خان نے پڑھے لکھے اور نوجوان طبقےکو ٹارگٹ کیا۔ قادیانیوں نے ممکنہ پوٹینشل کو بھانپ کر اپنے نوجوانوں کو پی ٹی آئی میں شامل کرانا شروع کیا اور خاص طو ر پر بیرون ملک پی ٹی آئی کے بہت سے کارکنان سرگرم قادیانی ہیں۔ ان میں بہت سے بہت ہی اعلی تعلیم یافتہ اور عالمی سطح کے مانے جانے، اپنے شعبوں کے ماہر ہیں۔ پی ٹی آئی چونکہ اصلاحات کا نعرہ لگاتی ہے اور بیرون ملک سے پاکستانیوں کو پاکستان واپس لانے کی بات کرتی ہے تو یہاں قادیانیوں کے لئے بہت سے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش مسلسل کررہے ہیں۔اس سلسلے میں سب سے معروف بات عاطف میاں کی ہے۔ عاطف میاں نے اپنے گروپ کی زیر نگرانی تعلیمی اور بعد کے مراحل طے کئے اور آج وہ اپنے شعبہ مالیات کے عالمی ماہر ہیں۔ ایسا شخص جب عمران خان کی نظروں میں آیا تو وہ جھوم اٹھے۔ انکا خیال تھا کہ وہ ایک ایسا پاکستانی ہے جو عالمی سطح کا مشہور ماہر مالیات ہے اور وہ پاکستانی معشیت کو چلا کر دکھا دے گا۔ جب کہ قادیانی  یہ سوچ رہے تھے کہ وہ معشیت چلانے کے ساتھ ساتھ اپنےدیرینہ مذہبی معاملات بھی حل کرالے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے باقاعدہ طور پر پاکستانی ماہر مالیات بنا کر عاطف میاں کو متعارف کرایا گیا تھا۔ بہرحال جب عاطف میاں پاکستان میں اترا تو جلد ہی اس کے قادیانی ہونے کا معاملہ علما کی نظر میں آگیا اور اس کی وجہ بھی خود مرزائیوں کی اچھل کود بنی جو اس کو اپنی کامیابی بنا کر پیش کررہے تھے۔ یوں عاطف میاں کی دال نا گل سکی اور فرار ہوگیا۔ مگر قادیانی اب بھی اس حکومت میں نادیدہ طور پر موجود ہیں اور وقتا فوقتا اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عاطف میاں کے بعد وہ محتاط ہیں اور اپنا مذہب چھپاتے ہیں۔ حکومت پر اثر انداز ہونےکا دوسرا طریقہ عالمی  سطح پر لابنگ ہے، قادیانی چونکہ عالمی قوتوں کے لئے اسلام کےخلاف نہایت پرکشش حیثیت رکھتے ہیں، اس لئے قادیانی عالمی اداروں کے ذریعے اپنے مطالبات پاکستانی حکومت تک پہنچاتے اور اس پر عمل درآمد کے لئے دبائو مستقل ڈالتے رہتے ہیں۔

 دوسرا معاملہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی چیز، خبر یا معاملے پر اچانک ٹرینڈ کیسے شروع ہوجاتے ہیں؟ اس سوال کا نصف جواب  تو عمران خان کی سوشل میڈیا کی تعریف۔ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سے باقاعدہ ملاقاتیں اور فنڈز کے اجرا میں چھپا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک سوشل میڈیا معاشرے کا آئینہ تھا، لوگ جو محسوس کرتے تھے وہ تحریر کرتے تھے اور شیئر کرتے تھے، یوں معاشرے کے رجحان کا پتا چلتا رہتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے، ملک کی تین بڑی قوتوں نے سوشل میڈیا پر پندرہ سے لے کر بیس ہزار تک اپنی فورس بنا رکھی ہے۔ ان کی باقاعدہ بھرتیاں ہوتی ہیں، تربیت ہوتی ہے اور فنڈز ملتے ہیں۔ ن لیگ کی فورس کو مریم نواز ہیڈ کرتی ہیں، پی ٹی آئی  کی فورس کو خود عمران خان ہیڈ کرتے ہیں اور مقتدرہ قوت کی فورس کو جو ہیڈ کرتا ہے مجھے نہیں معلوم۔ ٹرینڈ اس طرح  بنتا ہے کہ جب مریم نواز کو کوئی بات یا خبر پھیلانا ہوتی ہے وہ اپنے سوشل  میڈیا کے نائب کو بتا دیتی ہیں، یوں درجہ بدرجہ تمام فورس کو پتا چل جاتا ہے کہ کچھ ہی دیر میں کوئی خبر آنے والی ہے، جیسے ہی وہ خبر آتی ہے، سوشل میڈیا پر تمام فورس اس پر بات کرنا شروع کردیتی ہے، اس کے حق میں دلائل، مخالفت میں گالیاں وغیرہ وغیرہ۔ جب بیس ہزار افراد اچانک ایک ساتھ سوشل میڈیا پربات کرنا شروع کریں گے تو وہ بہت اچھی طرح نظر آئے گی، یوں پی ٹی آئی اور مقتدررہ والے اس کی مخالفت میں فورا اتر آتے ہیں اور گالیاں، طعنے اور مخالف دلائل شروع ہوجاتے ہیں،اس طرح ساٹھ ہزار افراد ایک ساتھ ایک ہی موضوع پر بات کرنا شروع کردیتے ہیں اور ٹرینڈ بن  جاتا ہے۔ تازہ مسلم اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کو شامل کرنے والی خبر پر چونکہ فوری طور پر عمران خان کو سراہنے، تعریف کرنے اور خبر کے حق میں پی ٹی آئی کی فورس نے ٹرینڈ شروع کردیا تھا، اس لئے اس بات سے انکار کرنا ممکن ہی نہیں کہ خبر غلط تھی، خبر درست تھی، باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ ٹرینڈ بنایا گیا اور قادیانیوں کی طرف سے ہی یہ حملہ کیا گیا تھا، مگر علما  کی طرف سے بروقت اقدام اور احتجاج کی وجہ سے جب معاملہ عمران خان کے علم میں آیا کہ کیا غلطی ہوچکی ہےتو انہوں نے معاملہ ختم کرنے کا حکم دیا اور یوں حکومت نے ایسے کسی فعل سے انکار کردیا اور  خبر کو ہی جھوٹا قرار دے دیا، یوں قادیانیوں کا ایک اور حملہ ناکام ہوا مگر وہ دوبارہ کوشش کریں گے۔

اب آتے ہیں تیسرے معاملے کی طرف۔ کہ قادیانیوں کو آخر اقلیت تسلیم کرنے میں کیا حرج ہے؟ علما اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟

دراصل علما نے کبھی بھی قادیانیوں  کو غیرمسلم تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا، اعتراض ان کی دو چیزوں پر ہے، سب سے پہلی بات یہ  ہے کہ قادیانی کسی مذہب کانام نہیں ہوسکتا، کیونکہ قادیان تو بھارتی شہر ہے، قادیانی اپنا اصل مذہب احمدی بتاتے ہیں۔ اور خود کو مسلمان کہتے ہیں، مسلمانوں کی طرح اپنی عبادت گاہ مسجد کی طرح بنا کر اس کو مسجد کا نام دیتے ہیں اور مسلمان بن کر حج کو کعبہ جاتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو یہ سب کرنے دیا جائے۔ جب کہ علما اس کو ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہی ہے۔ قادیانی اپنا مذہب احمدی بتاتے ہیں،  جب کہ احمد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک ہے۔ محد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری پیغمبر خدا ہیں  جب کہ قادیانی کہتے ہین کہ ان کے بعد ہمارا مرزا قادیانی پیغمبر اسلام بن کر آیا اور وہ بھی اسلام کا پیغمبر خدا ہے اور قرآن اس پر بھی نازل ہوا، اور کلمہ میں محمد رسول اللہ سے مراد مرزا بھی ہے۔نعوذ بااللہ۔ یعنی قادیانی کوئی مذہب نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے عقائد، قرآن اور رسول کو تبدیل کرنا ہی ان کا مذہب ہے۔اسی وجہ سے پاکستان کی قومی اسمبلی میں طویل بحث کے بعد آئین پاکستان میں یہ طے کردیا گیا ہے کہ  قادیانی گروپ مسلمانوں کی کوئی بھی شناخت استعمال نہیں کرسکتا۔ اور قادیانی اس آئین کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، قادیانیوں نے یورپی یونین کی عدالت میں بھی یہ مقدمہ اسی بنیاد پر ہارا ہے کہ کیسے وہ مسلمانوں کی شناخت چھین کر اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔

قادیانی گروپ کو اقلیتی گروپ میں بطور گروہ شامل کرلیا جاتا ہے کہ تو ان کی قانونی حیثیت بحال ہوجائے گی۔ وہ کھلے عام اپنی سرگرمیاں کریں گے، سرکاری اجلاسوں میں کھل کر شریک ہوں گے اور اپنےمطالبات تسلیم کرائیں گے اور مسلمانوں کو گمراہ کریں گے۔ بس اسی کی مخالفت علما کرتے ہیں۔

Facebook Comments
Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے