مئی 24, 2020
  • Home
  • ریسرچ رپورٹس
  • تحریک انصاف کے 5 اہم رہنما عمران خان کے خلاف سرگرم ہیں۔ اہم رپورٹ

تحریک انصاف کے 5 اہم رہنما عمران خان کے خلاف سرگرم ہیں۔ اہم رپورٹ

By on اپریل 29, 2020 0 610 Views

احوال رپورٹ

دو روز قبل فردوس عاشق اعوان اپنے عملے پر غصہ ہورہی تھیں کہ رابطہ کیوں نہیں استوار ہورہا اور کابینہ کے وٹس ایپ گروپ میں ہونے والی سرگرمیاں انہیں کیوں نظر نہیں آرہیں، انکا خیال تھا کہ کچھ تکنیکی خرابی ہے جو ان کا عملہ سمجھ نہیں پا رہا،اسی دوران کسی نے ان کو بتایا کہ ان کو کابینہ سے فارغ کئے  جانے کی اطلاع ہے، یہ سنتے ہی وہ ہمت ہار بیٹھیں اور اسی دوران ہر قسم کے میڈیا پر انکی کرپشن کی داستانیں  نمودار ہونا شروع ہوگئیں۔دراصل عمران خان ٹیکنالوجی کے استعمال پر شروع سے ہی یقین رکھتے ہیں اور بلیک بیری فون کے حوالے سے بھی وہ کافی مشہور رہ چکے ہیں، اب جب کہ وہ حکومت  میں ہیں، انہوں نےکابینہ کا ایک وٹس ایپ گروپ بنا رکھا ہے جس میں تمام ہدایات اورمباحث جاری رہتے ہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وٹس ایپ کے پیغامات کو ریکارڈ نہیں کیا جا سکتا اور تمام گفتگو پرائیوٹ ہی رہتی ہے۔ فردوس عاشق اعوان بھی اس گروپ کا حصہ تھیں مگر پھر اچانک ہی انہیں احساس ہوا کہ ان کے پاس کابینہ گروپ کےپیغامات نہیں آرہے، ابھی وہ اس کی وجہ پتا چلانے کی کوشش ہی کررہی تھیں کہ  وہ برطرف ہوگئیں۔پی ٹی آئی حکومت کی ایک اور خصوصیت یہ ہےکہ یہاں سے کوئی بھی باعزت رخصت نہیں ہوتا لہذا اس وقت فردوس عاشق اعوان سوشل میڈیا پر اپنے خلاف چلنے والے کرپشن کے الزامات کا جواب دینے میں مصروف ہیں۔

دراصل یہ سب اچانک نہیں ہوا۔مگر جس کے خلاف ہوا اسے سب سے آخر میں اور اچانک ہی معلوم ہوا، کیونکہ ایسا تو ہوتا ہے اقتدار کےایوانوں میں۔آنے والے دونوں میں جلد ایسے مزید سانحات اور برطرف افراد سامنے آنے والے ہیں کیونکہ بتایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی کم از کم پانچ ایسے اہم افراد ہیں جو اپنی ہی حکومت کی جڑیں کترنے میں مصروف سمجھے جا رہے ہیں۔چاہے حقیقت کچھ بھی ہو مگر پی ٹی آئی کی اعلی سطح پر ایسا سمجھا جا رہا ہے اور اس کی وجوہات بھی بتائی جا رہی ہیں۔

1­­ فردوس عاشق اعوان

بتانے والے بتاتے ہیں کہ فردوس عاشق اعوان کو وزارت اطلاعات صرف اس وجہ سے ملی تھی کہ وہ پرویز مشرف دور میں اس منصب پر فائز رہ چکی تھیں اور پرانے کنکشنز کی وجہ سے مقتدر حلقوں میں لابنگ کرنے میں کامیاب رہی تھیں۔ وہ اپنی نہایت کڑوی باتوں کی وجہ سے مشہور ہیں اور اپوزیشن پر طنز کے تیر برسانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھیں۔ مگر کہا یہ جا رہا ہے کہ وہ اپنی عارضی کرسی کی حقیقت سے واقف تھیں اور میڈیا منیجمنٹ کے دوران اشتہارات، کمیشن، اپنے رشتہ داروں کی بھرتیاں بھی تیزی سے جاری رکھی ہوئے تھیں۔فردوس عاشق اس سے قبل پیپلز پارٹی میں بھی شامل رہی تھیں لہذا ان کا ماضی بھی عمران خان کو تنگ کرتا تھا، کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی کی نسبت سے دس فیصد کمیشن پر یقین رکھتی تھیں۔ چند ہفتے قبل ہی ان کے بھانجے کی ایک اعلی عہدے پر تقرری پر بھی کافی شور اٹھا تھا، اس سب کے علاوہ جو چیز ان کے خلاف تھی، پی ٹی آئی جوائن کرنے سے قبل وہ نواز لیگ میں جانے کی کوشش کرتی رہی تھیں، بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی ذریعے سے درخواست نواز شریف تک پہنچائی تھی کہ وہ پارٹی کا حصہ بننا چاہتی ہیں مگر نواز شریف کے انکار کے بعد وہ عمران خان کے ہم رکاب ہوگئیں۔یہ بات عمران خان کبھی نہیں بھولے اور بالاآخر وہ رخصت ہوئیں۔ ان کی رخصتی پر سب سے بلند قہقہ پی ٹی آئی کے فواد چوہدری کا تھا۔ مگر فواد چوہدری کے ستارے بھی کچھ بہتر چال نہیں چل رہے۔

2 فواد چوہدری

فواد چوہدری دبنگ وکیل۔حاضر دماغ۔کھلی گفتگو کے ماہر اور صحافیوں کو تھپڑ مارنے کے لئے مشہورلبرل سیاستدان ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ دل کی بات زبان  پر لاتے دیر نہیں لگاتے۔مشرف۔ پیپلز پارٹی سے ہوتے ہوئے پی ٹی آئی تک پہنچے اور کہا جاتا ہےکہ وہ بھی مقتدر حلقوں میں رسائی رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے آتے ہی انہیں وزیر اطلاعات لگایا گیا تھا مگر بہت رسوا ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے۔ کچھ عرصے بعد ہی ان کی جگہ فردوس عاشق اعوان کو لگا دیا گیا جس پر فواد کو زیادہ رنج اس بات پر ہوا کہ کہ فردوس عاشق نے وزارت سنبھالنے کے بعد سب سےپہلے فواد چوہدری پر تنقید کی تھی اور انہیں بلواسطہ نااہل کہا۔ فواد چوہدری ذاتی حملے کرتے تو ہیں مگر برداشت بلکل بھی نہیں کرتے، اسی وجہ سے جب سمیع ابراہیم اور مبشر لقمان نے ان پر ذاتی حملے کئے تو فواد نے انہیں بھری محفل میں نصف حکومت  کے سامنے تھپڑ مارے۔اس سے عمران خان بہت بدمزہ ہوئے مگر مناسب وقت کے لئے خاموش ہوگئے۔ کوئی بھی اب فواد چوہدری پر طنز نہیں کرتا کہ سب تھپڑ سے ڈرتے ہیں۔فواد چوہدری کو وزرات اطلاعات جیسی اہم وزارت سے ہٹانے کے بعد وزارت سائنس جیسی غیر متعلقہ وزارت میں ڈمپ کیا گیا ہے جہاں وہ صرف رمضان اور عید کے چاند پر ہی مفتی منیب سے لڑتے رہتے ہیں۔ اسکے علاوہ ان کےپاس کوئی کام نہیں۔فواد چوہدری جب پیپلز پارٹی میں تھے وہ عمران خان کے خلاف بہت سے ذاتی حملے بھی کرتے  رہتے تھے جو مختلف گروپس نے محفوظ کرلئے تھے، یہی فواد جب پی ٹی آئی کے وزیر اطلاعات بنے اور عمران خان کے دفاع کے لئے اترے تو مخالفین نے فواد چوہدری کے وہ ٹوئیٹس شائع کرنا شروع کردئے جس پر عمران بہت بد مزہ ہوئے اور یوں ان کی وزارت ختم ہوئی اور وہ ایک کونے میں ڈمپ کردئے گئے۔مولانا طارق جمیل عمران خان کے بہت قریب ہیں اور عمران خان ان کا بہت ہی زیادہ احترام کرتے ہیں۔طارق جمیل کے خلاف جب میڈیا کے کچھ حصے نے مہم چلائی تو پوری پی ٹی آئی ان کے دفاع میں سرگرم تھی مگر ایسے میں فواد چوہدری نے ایک شعر ٹوئیٹ کیا۔

دین ملا فساد فی سیبل اللہ

فواد چوہدری لبرل ہیں اور علما کو زیادہ پسند نہیں کرتے اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں، مگر مولانا طارق جمیل پر ان کا یہ طنز کہا جاتا ہے کہ عمران خان کے دل میں کھب گیا ہے۔ سمجھا جا رہا ہے کہ فواد نےمولانا کی مخالفت کر کے پارٹی پر کاری ضرب لگائی ہے۔آنے والے دنوں میں ان کے خلاف کچھ نا کچھ ہو کر رہے گا والی صورتحال ہے۔

3 شیریں مزاری

شیریں مزاری پی ٹی آئی کے سب سے پرانے کیڈر کا حصہ ہیں۔مگر ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود کو عمران خان کے ہم  پلہ سمجھتی ہیں اور اپنی پالیسیاں خود بنانے میں آزاد محسوس کرتی ہیں۔ شیریں مزاری پڑھی لکھی خاتون ہیں،مقتدر حلقوں کے قریب بھی رہی ہیں، دفاعی امور پر مہارت بھی ہے۔ مگر وہ پارٹی پالیسی پر چلنے کے بجائے خود سر ہیں۔ انہیں ایک بار پہلے بھی عمران خان پارٹی سے تقریبا نکال چکے ہیں مگر بعد میں کچھ حلقوں کی مداخلت پر انہیں واپس لے لیا گیا تھا مگر تازہ معاملات میں مقتدر حلقے بھی ان سے ناخوش ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی بیٹی ایمان مزاری ہے۔ ایمان مزاری اس ایلیٹ گروپ کا حصہ ہے جو بڑے اور بااثر لوگوں کی بیٹیوں پر مشتمل ہے، لبرل ہے اور فوج کا سخت  مخالف ہے اور پی ٹی آئی کا بھی سخت مخالف ہے۔فوج اور پی ٹی آئی کی مخالفت کی وجہ اس گروپ کا لبرل ازم ہے۔ شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور تواتر سے عمران خان اور فوج کےخلاف بیانات داغتی رہتی ہیں۔ خود شیریں مزاری بھی کبھی مذہبی نہیں رہیں اور لبرل ہیں۔ وہ خود بھی عمران خان کے مذہبی رنگ سے پریشان ہیں۔ انہیں انسانی حقوق کی وزارت دی گئی تھی مگر کہا جاتا ہے کہ وہ کچھ خاص نہیں کرسکیں جو انہیں ممتاز بناتا،بجائے اس کے انہوں نے تازہ ترین مولانا طارق جمیل معاملے پر پی ٹی آئی کی لائن لینے کے بجائے مولانا طارق جمیل کے خلاف لائن لی اور انہیں خوب لتاڑا۔ کہا جا تاہے کہ انہوں نے پارٹی کی ریڈ لائن عبور کی ہے۔

4 شیخ رشید احمد

فرزند پنڈی نے اپنی پوری سیاسی زندگی دبنگ انداز میں گزاری ہے اوراسی وجہ سے  کسی جگہ بھی زیادہ دیر فٹ نہیں رہ سکے۔ ان کی یہی خامی یا خوبی اب پی ٹی آئی میں برائی بن کر سامنے آرہی ہے۔ وہ کچھ عرصے سے دبے دبے الفاط میں عمران خان اور پی ٹی آئی پر تنقید کرتے نظر آرہے ہیں۔ دراصل وہ کبھی پی ٹی آئی کا حصہ نہیں تھے بلکہ وہ اپنی ایک سیٹ والی پارٹی کو پی ٹی آئی کا پارٹنر قرار دیتے ہیں جو کہ عمران خان کو گراں گزرتا ہے کہ وہ عمران خان کو اپنا لیڈر ماننے کےبجائے خود کو عمران خان کے پلے کا لیڈر قرار دیتے ہیں۔ شیخ رشید کی اسی خامی کی وجہ سے خان نےا نہیں وزارت اطلاعات سے دور رکھا تھا اور ریلوئے کے خرابے میں ڈمپ کردیا تھا مگر وہ ریلوئے ہیڈ کوارٹر میں بھی وزارت اطلاعات سجائے بیٹھے ہیں اور ان کی روز کی پریس کانفرنسوں میں ریلوئے کے علاوہ تمام سیاسی امور پر بات کی جاتی ہے۔کہا جاتا کہ ماضی میں وہ جو  باتیں عمران خان کےخلاف کرتے رہے ہیں  خان نے انہیں بھلایا نہیں ہے، ان کی پرانی باتیں اور نئی پریس کانفرنسیں جلد ہی چارج شیٹ میں بدلنے والی ہیں۔

5  جہانگیر ترین

بادشاہ کے سامنے خود کو بادشاہ گر سمجھنے والے جہانگیر ترین کھڈے لائن ہوچکے مگر وہ اب بھی خود کو بادشاہ گر سمجھ رہے ہیں۔ گوکہ ان کے مخالفین، اسد عمر،علیم خان وغیرہ اب پاور  میں ہیں مگر جہانگیر ترین اپنی قسمت پر شاکر ہونے کے بجائے مقابلے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں اور ممبران اسمبلی سے روز کی ملاقاتیں اور پل پل کی خبریں خان تک پہنچ رہی ہیں۔ جہانگیر ترین دراصل عمران خان کے سب سے قریبی ساتھی تھے۔ جہاز میں بندے بھر کر حکومت بنانے سے بھی پہلے کے ساتھی۔ وزیر اعظم کی موجودہ اہلیہ کی شادی سے بھی قبل کے راز دان۔ کہا جاتا ہے کہ مانیکا خاندان نے اس شادی سے قبل ترین کے ہی ذریعے خان کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ اس شادی سے باز رہے مگر ہونی ہو کر رہی البتہ جہانگیر ترین خاتون اول کے دل سے اتر گئے اور بعد  میں آٹے چینی کے اسکینڈل نے ان کا بوریا بستر لپیٹ دیا۔ جہانگیر ترین اب بھی خاموش نہیں بیٹھے، بلکہ اب بھی وہ  خود کو کھلے عام بادشاہ گر قرار دیتے ہیں اور نجی محفلوں میں ذو معنی باتیں کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ خان تک پہنچ رہا ہے اور امید ہے کہ جہانگیر ترین کا اچھا وقت ابھی کافی دور ہے۔

Facebook Comments
Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے