مئی 24, 2020
  • Home
  • فیچرز
  • مرنے والے کرونا کے مریض نہیں تھے

مرنے والے کرونا کے مریض نہیں تھے

By on مئی 7, 2020 0 262 Views

احوال رپورٹ

کشمالہ قادر پیر کے روز معمول کے مطابق ڈیوٹی پر آئیں، وہ کراچی میں میں ڈی سی آفس سائوتھ میں  کام کرتی ہیں اور آج کل ان کا معمول یہ ہے کہ وہ ضلع بھر میں کرونا وائرس کے شکار افراد کےگھر فون کرتی ہیں اور تصدیق کرتی ہیں کہ وہ ہدایات کےمطابق قرنطینہ میں ہیں یا نہیں، پیر کےروز انہوں نے فہرست کے مطابق عشرت کے گھر فون کیا، عشرت چالیس کے پیٹے میں تھیں اور کچھ  روز قبل ضیا الدین اسپتال نے کرونا کنٹرول روم کو ان کےبارے میں اطلاع دی تھی کہ وہ کرونا کی مریض ہیں،کشمالہ کے فون کا جواب کسی مرد نے دیا، کشمالہ نے جب عشرت سے بات کرنا چاہی تو جواب ملا کہ عشرت اب دنیا میں نہیں رہی،کرونا کے مریض کی ہلاکت متوقع رہتی ہے،اسی وجہ سے کشمالہ نے تعزیتی کلمات ادا کئے اور مزید تفصیل جاننا چاہی تو عشرت کا شوہر پھٹ پڑٖا، اس کا کہنا تھا کہ عشرت کرونا کی مریضہ نہیں تھی، اسے پیٹ میں درد اور موشن تھے، وہ اسے اسپتال لے کر گئے، جہاں انہوں نے عشرت کو واپس بھیجنے سے انکار کردیا اور اسے مشتبہ مریضہ قرار دے دیا، گھر والوں نے اس کے ٹیسٹ کرائے، جو کہ کلفٹن کراچی، ضیا الدین سے کرائے گئے، پہلا ٹیسٹ منفی آیا، گھر والے خوش ہوگئے مگر اسپتال والوں نے اسے پھر بھی کلئیر کرنے سے انکار کردیا اور کہا وہ دوبارہ ٹیسٹ کریں گے، عشرت کا دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا جو کہ ضیا الدین کلفٹن سےکیا گیا، وہ بھی منفی آیا، مگر عشرت پھر بھی کلئیر نہ ہوسکی اور اسے کرونا کا مریض قرار دے کر اس کا ڈیٹا ڈی سی آفس بھیج دیا گیا،اسی بھاگ دوڑ اور ٹیسٹوں کےد وران عشرت کا نروس بریک ڈائون ہوا اور وہ خوف سےمر گئی۔ مرنے کے بعد  اسے کرونا کا مریض قرار دےکر ایس او پی کے مطابق اس کی تدفین کردی گئی، اب اس کا شوہر اور بچے پوچھتے پھررہے ہیں کہ آخر ٹیسٹ منفی آنےکے باوجود وہ کیسے کرونا کی مریضہ تھی؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

ڈاکٹر فرقان کا تعلق بھی کراچی سے تھا، وہ کراچی کے چند انتہائی سینئر ڈاکٹرز میں سے تھے۔ ان کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ تھی اور وہ حال ہی میں ایک ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے، انہیں کھانسی نزلہ اور نمونیا سےملتی جلتی شکایت تھی، گھر والے اصرار کررہے تھے کہ وہ کرونا کا ٹیسٹ کرالیں مگر ڈاکٹر فرقان کہتے تھے انہیں کرونا نہیں، وہ جانتے ہیں۔ پانچ روز قبل گھر والوں کے اصرار پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ طبعی امداد ملنے سے پہلے ہی انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کےبعد کراچی میں سراسیمگی پھیل گئی کہ ایک انتہائی سینئر ڈاکٹر کرونا سے انتقال کرگیا کیونکہ شہر میں کوئی بھی وینٹی لیٹر خالی نہیں تھا۔جب دبائو بڑھا اور حکومت نے انکوائری کرائی تو ایک اور انکشاف ہوا، معلوم ہوا کہ ڈاکٹر فرقان کرونا کے باعث نہیں بلکہ، ایک اور ڈاکٹر،  جگدیشن کی لاپرواہی کے باعث فوت ہوئے۔ انہیں کرونا تھا یا نہیں، اس کا علم نہیں کیونکہ ان کا کبھی ٹیسٹ ہی نہیں ہوا تھا البتہ فوت کی وجہ ڈاکٹر جگدیش کی غفلت تھی۔فرقان کو جب سول اسپتال کراچی متنقل کیا گیا تو ان کی حالت کچھ بہتر نا تھی اور انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت تھی،ڈاکٹر جگدیش نے ان کا معائنہ کیا اور لاپروائی سے کرونا کیس قرار دے کر دوسرے اسپتال کےلئے روانہ کردیا،  جہاں وہ راستے میں ہی انتقال کرگئے۔

دنیا بھر میں کرونا کی وبا  کے اعدادوشمار عالمی ادارہ صحت مرتب کررہا ہے، یہی ادارہ دنیا بھر میں روز مرنے والوں کی شرح کا تعین بھی کرتا ہے،عالمی شرح اموات کے مطابق کرونا وبا سے قبل روز دنیا میں ڈیڑھ لاکھ افراد انتقال کررہے تھے، کرونا وبا کےبعد روز دنیا بھر میں ہزاروں افراد کرونا وائرس سے فوت ہورہے ہیں، مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عالمی شرح اموات بڑھنے کے  بجائے کم ہوئی ہے، اس وقت عالمی شرح اموات ایک لاکھ بیس ہزار روزآنہ ہے۔ یعنی کرونا کی وبا آنے کےبعد دنیا میں کم لوگ مررہے ہیں۔

حمزہ شفاقت اسلام آباد کے ڈی سی ہیں، انہوں نے دو روز قبل ایک نقشہ جاری کیا اور ٹوئیٹر پر ایک سوال پوچھا، ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس پھیلنے کے بعد اسلام آباد میں لوگوں کے فوت ہونے کی شرح کم ہوگئی ہے۔  یعنی وائرس پھیلنے سے قبل اسلام آباد میں ہر مہیںے زیادہ لوگ فوت ہورہے تھے، اور وبا پھیلنے کے بعد کم لوگ فوت ہورہے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

ٹرمپ امریکی صدر ہیں، وہ کہتے ہیں کرونا کچھ نہیں ہے،مگر ان کا اسٹاف اور ڈاکٹروں کی کچھ تعداد کہتی ہے کرونا بہت بڑی وبا ہے اور لاکھولوگ مر جائیں گے۔امریکی عوام بھی  اب باہر نکل کر مظاہرے کررہے ہیں، حیرت انگیز طور پر یہ مظاہرے نا تو ٹرمپ کے خلاف ہیں اور نا ہی کرونا کےخلاف، وہ مائیکرو سافٹ کےبانی اور دنیا کے سب سے بڑے ٹیکنالوجسٹ، بل گیٹس کو گالیاں دے رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں بل گیٹس، ہمارے جسم پر تمھاری مرضی نہیں چلے گی، جعلی وائرس واپس لو، ہمیں اپنی زندگی جینے دو۔

کرونا وائرس ہے یا نہیں، اور یہ کتنا خطرناک ہے؟ اس سے قطع نظر دنیا کی تاریخ میں پہلی بار پوری دنیا کو ایک ایسے خطرے کی وجہ سے بند کردیا گیا ہے جو ابھی تک سامنے نہیں آیا، یعنی لاشوں کے ڈھیر،جیسا کہ بتایا گیا تھا۔ اور دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ہی، امریکی صدر سے لے کر پاکستان کے چپراسی تک، سب ایک ایسے وائرس کو مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہےہیں، جسے دنیا کی بڑی کارپوریشنز اور ٹیکنالوجسٹ سب سے بڑا خطرہ بتا رہے ہیں۔حقیقت کیا ہے؟ پردہ ہٹنے والا ہےاور جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے۔

Facebook Comments
Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے