مئی 24, 2020
  • Home
  • فیچرز
  • مقبوضہ کشمیر: ریاض نیکو کیسے شہید ہوئے۔ اہم رپورٹ

مقبوضہ کشمیر: ریاض نیکو کیسے شہید ہوئے۔ اہم رپورٹ

By on مئی 7, 2020 0 368 Views

احوال رپورٹ

ا یک ہفتہ قبل نو رمضان المبارک کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے ہندواڑہ میں مجاہدین دو اعلی بھارتی افسران کو مارنے میں کامیاب رہے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے کئی کامیاب حملے کئے اور درجن بھر بھارتی فوجی مارے گئے۔ دراصل یہ  حملے کشمیری مجاہدین کے رمضان آپریشن کا حصہ تھے۔اس کے بعد سے بھارتی فوج پر دبائو تھا کہ وہ کچھ کر کے دکھائے۔اسی دوران ریاض نیکو ایک افطار اپنے گھر والوں کےساتھ کرنے اپنے گھر واقع پلوامہ پہنچے، بھارتی مخبروں کو پتا چل گیا اور انہوں نے فوری آگے اطلاع دی اور یوں ایک ایسے طویل معرکے کا آغاز ہوا جو سحری کے وقت ریاض نیکو کی شہادت پر ختم ہوا۔ مقبوضہ کشمیر کا علاقہ پلوامہ سرخ سیبوں کے لئے مشہور ہے، مگر یہاں سے اب اکثر سرخ لہو میں  لت پت لاشے اٹھائے جاتے ہیں،اسی بستی کا ایک نوجوان ریاض نیکو بھی تھا۔ ریاض نیکو انتہائی ذہین اور خوبضورت جوان تھا، دو ہزار دس تک وہ کالج کا سب سےعمدہ طالب علم تھا، اسی دوران ان کے علاقے کے کچھ افراد شہید ہوگئے، ان کے جنازے میں نیکو نے بھی شرکت اور اس کے بعد انہیں بھارتی فوج نے گرفتار کر کے ٹارچر کا نشانہ بنایا، وہ کچھ عرصہ بعد رہا تو ہوگئے مگر پھر وہ کالج نہیں گئے۔ بلکہ پہاڑوں کا رخ کیا اور مجاہدین کے ساتھی بن گئے، وہ گزشتہ دس سال سے حزب المجاہدین سے وابستہ رہے اور بھارتی فوج کےلئے سردرد بنے رہے۔ ریاض کا ایک اور دوست برہان وانی تھا، ریاض نیکو اور برہان وانی وغیرہ وہ پہلے کشمیری جہادی تھے جنہوں نے سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال شروع کیا اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو مخاطب کیا، ان کا کہنا تھا کہ ان پر صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے ظلم کیا جاتا ہے لہذا پوری دنیا کےمسلمان ان کی مدد کریں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد ریاض نیکو کو آپریشنل کمانڈر بنایا گیا اور انہوں نے بھارتی فوج کو تگنی کا ناچ نچایا۔ وہ گزشتہ آٹھ برس سے بھارتی فوج کو سب سے مطلوب شخص تھے۔ بھارتی فوج کو یقین تھا کہ وہ نیکو کو زندہ گرفتار نہیں کرسکتے، لہذا ان کے مکان کےگرد بارود لگا کر اسے دھماکے سے اڑا دیا گیا جس سے وہ شہید ہوگئے،بعد میں ان کی لاش کو رسی سے باندھ کر گھسیٹا گیا اور پھر انکی لاش لواحیقین کےحوالے کرنے سے انکار کر کےنامعلوم جگہ دفن کردیا گیا۔

Facebook Comments
Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے