مئی 24, 2020
  • Home
  • ریسرچ رپورٹس
  • لیبیا میں سعودی عرب، مصر اور ترکی کیوں باہم لڑ رہے ہیں؟ اہم رپورٹ

لیبیا میں سعودی عرب، مصر اور ترکی کیوں باہم لڑ رہے ہیں؟ اہم رپورٹ

By on اپریل 21, 2020 0 321 Views

سعید احمد عباسی

لیبیا کا جنگی سردار جنرل خلیفہ حفتار ایک ہفتہ قبل تک دارالحکومت طرابلس کے دروازے پر کھڑا شہر پر گولے برسا رہا تھا، اس کی فوجوں نے بندرگاہ میں لنگر انداز جہازوں کو بھی تباہ کردیا اور اس میں کوئی شک نہیں رہا تھا کہ خلیفہ حفتار طرابلس  پر قبضہ کرلےگا۔مگر ایک ہفتے بعد حفتار کی فوجیں تباہ ہوچکی ہیں اوروفاقی حکومت کے دستے جنرل حفتار کے بچے کھچے دستوں کا تعاقب کررہے ہیں۔اس کہانی کو ایک ہفتے میں ہی بلکل بدل دینے والے کردار ترکی کے بارہ عدد ڈرون طیارے ہیں جنہوں نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔اس سے ٹھیک ایک مہینہ قبل یہی ترکش ڈرون ٹیکنالوجی شام کے صوبے ادلب میں بھی یہی کردار ادا کرچکی ہے۔یہ واقعہ اسلامی دنیا کی اندرونی جنگوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس میں سعودی عرب، یواے ای اور ترکی ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔

عام طور پر اس وقت اسلامی دنیا جن تنازعات میں گھری ہوئی ہے وہ فلسطین، افغانستان اور کشمیر وغیرہ ہی سمجھے جاتے ہیں مگر معاملات اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں، ان میں تازہ ترین معاملہ لیبیا کا ہے جہاں سعودی عرب، مصر اور عرب امارات مغرب اور روس کی مدد سے ترکی کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ یہ کہاںی شروع ہوتی ہے کرنل قذافی کے زوال سے، قذافی کے زوال کے بعد ملک کی باگ دوڑ جہادی گروپوں کے ہاتھ میں آئی، انہوں نے ملک سے امریکہ کوآوٹ کردیا، جس کے بعد مغرب اور امریکہ نے طویل جدوجہد کے بعد ملک میں جمہوریت بحال کروائی اور انتخابات کے بعد ایک اسلامی جمہوری حکومت دارالحکومت طرابلس میں برسراقتدار آگئی۔یہاں سے نئے کھیل کا آغاز ہوتا ہے۔لیبیا میں تیل کے بے تحاشا ذخائر ہیں اور اس کے سمندرگیس سے بھرے ہوئے ہیں، فرانس اور اٹلی ان ذخائر پر زیادہ حق جتاتے ہیں کہ وہ لیبیا میں قابض رہ چکے ہیں،لیبیا کے ایک جنگی سردار جنرل حفتار نے اس دوران اپنی ملییشا بنا کر  دوسرے بڑے شہر بن غازی پر قبضہ کرلیا، دراصل جنرل حفتار کرنل قذافی کے دور میں فوج میں شامل تھے مگر غداری کے الزامات پر ملک سے فرار  ہو کر فرانس چلے گئے۔ قذافی کے خاتمے کے بعد فرانس نے امریکا کی مدد سے حفتار کر لیبیا میں اپنا اثاثہ بنا کر بھیجا۔ یہاں سے حفتار کے دل میں اقتدار حاصل کرنے کی چنگاری دوبارہ سے شعلے میں بدلنے لگی۔ حفتار  نے اپنے آپ کو لبرل بنا کر مغرب اور امریکہ کے سامنے پیش کیا، جب کہ مصر کے سامنے اخوان کا خطرہ پیش کیا کہ اگر جمہوری حکومت لیبیا میں مستحکم ہوگئی اور تو مصر میں بھی جمہوریت پسند سر اٹھائیں گے جو کہ مصر کی فوجی حکومت کے لیے خطرہ ہوں گے، سعودی عرب اور یو اے ای بھی کسی صورت اسلامی جمہوری حکومتوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔اس طرح لیبیا میں انتخابات کے بعد نئی صف بندی ہونے لگی، انتخابات کے بعد چونکہ اقوام متحدہ اور دنیا اس حکومت کو تسلیم کرچکی تھی لہذا کھل کر تو اس حکومت کو ختم کرنا ممکن نہیں تھا مگر مصر، مغرب اور امریکا نے جنرل حفتار کو فوجی امداد دینا شروع کردی اور مالی امداد یو اے ای اور سعودی عرب کے ذمے رہی۔ مقصد یہ تھا کہ جنرل حفتار ایک مظبوط فوج کر بنا کر دارالحکومت طرابلس پر حملہ کرے اور قبضہ کرلے، پھر اس کی حکومت کو تسلیم کرلیا جائے۔یہی کھیل ایک بار پہلے بھی مصر میں دہرایا جا چکا تھا مگر اس بار کچھ گڑ بڑ ہوئی۔جنرل حفتار نے بھرپور تیاری کے ساتھ ہلہ بولا اور لیبیا کی قانونی حکومت کی فوج کو دھکیلتا ہوا دارالحکومت طرابلس کے دروازے پر آ پہنچا۔وفاقی حکومت نے ترکی سے مدد کی درخواست کی اور بدلے میں فوجی اور معاشی معاہدے بھی کئے۔ ترکی اس لیے بھی لیبیا کی  جمہوری حکومت کی حمایت کرتا ہے کہ وہ نظریاتی طور پر اس کے قریب ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے لیبیا میں اپنی فوج بھیجنے کا اعلان کیا بحرمتوسط کے مشرقی علاقے پرا پنا حق دعوی کر دیا کیونکہ لیبیا کے معاہدے کے بعد ترکی کی سمندری حدود لیبیا سے مل چکی تھی۔ ترک صدر نے پارلیمان سے اس کی منظوری لی اورواضح کیا ہے کہ لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت کی درخواست پر ترک فوجی بھیجے جارہے ہیں

ترکی نے گذشتہ ماہ فایزالسراج حکومت سے ایک اور سمجھوتے پر بھی دست خط کیے تھے۔اس کے تحت ترکی میں بحر متوسط کے جنوبی ساحلی علاقے سے لیبیا کے شمال مشرقی ساحلی علاقے تک ایک خصوصی اکنامک زون قائم کیا جائے گا۔یونان اور قبرص نے اس سمجھوتے کو سمندر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ان دونوں ملکوں کا ایک عرصے سے ترکی کے ساتھ سمندری اور علاقائی حدود پر تنازع چلا آرہا ہے۔

یونان نے اس سمجھوتے کے بعد لیبیا کے ایتھنز میں تعینات سفیر کو بے دخل کردیا ہے اور اس نے اقوام متحدہ میں ایک عذر داری بھی دائر کی ہے۔

مصر اور اسرائیل بھی ترکی کی لیبیا کے ساتھ معاملہ کاری پر چوکنا ہوگئے ،انھوں نے اس خطے میں تیل اور گیس کی تلاش اور انھیں نکالنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کررکھی ہے۔انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ مذکورہ سمجھوتے سے ان کی یورپ کو گیس برآمد کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔مصر نے اس سمجھوتے کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کا پابند نہیں جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس سے خطے کا امن واستحکام متاثر ہوسکتا ہے۔

ترکی نے جیسے ہی لیبیا میں اپنے مداخلت اور جمہوری حکومت کی حمایت کا اعلان کیا مصر،اسرائیل اور فرانس نے اس کی مزاحمت شروع کردی کہ جب کہ ان کے حمایت یافتہ جنگی سردار حفتار نے ترکی کے خلاف اعلان جہاد کردیا۔

حفتر نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ طرابلس حاصل کرنے کی جنگ آخری مراحل میں ہے اور وہ طرابلس کے دروازے پر آ پہنچا ہے۔ ‘

رواں برس دو جنوری کو ترکی کی پارلیمان نے ایک قانون منظور کیا جو ترک حکومت کو لیبیا میں افواج تعینات کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس قانون کی منظوری کے ساتھ ہی امریکی صدر، مصر، اسرائیل وغیرہ نے اس کی فوری اور  بھرپور مخالفت کی مگر ترک صدر نے فوج کے بھاری بھرکم دستے بھیجنے کے بجائے اپنے چھوٹے ڈرون طیاروں کے دو اسکواڈرن بھیج دئے۔یہ ڈرون طیارے ترکش صدر کے داماد کی کمپنی تیار کرتی ہے اور قیمت میں بھی انتہائی سستے ہیں۔ مگر چھوٹے سائز کی وجہ سے ہدف بنانا مشکل ہے، ان کی کارکردگی نہایت متاثر کن رہی ہے۔ان ترکش ڈرون طیاروں سے نبٹنے  کے لئے امریکہ اور یورپ نے یو اے ای کی ذریعے روس سے جدید ترین فضائی دفاعی نظام پین اسٹار خرید کر لیبیا پہنچائے مگر وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ترکش ڈرونز نے مسلسل پروازین کیں اور زمیں پر موجود حفتار کی فوج کو تباہ کردیا۔اس وقت جنگ کا پانسا جمہوری حکومت کے حق میں پلٹ چکا ہے۔ مگر میلین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ ترکی کو اس جنگ سے کیا فائدہ ہو گا؟

حالیہ کچھ عرصے میں صدر ایردوآن کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور استنبول جیسے بڑے شہر میں ان کی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لیبیا میں ترک فوجی تعینات کرنے سے نیشنلزم کی ایک نئی لہر پیدا ہو گی اور ترک صدر اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔

وہ ترکی کو اس طرح ایک طاقتور بین الاقوامی کھلاڑی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور عوام سے خطاب کے دوران انہوں نے یہ حوالہ بھی دیا تھا کہ سلطنت عثمانیہ کے اختتام پر جدید ترکی کے بانی کمال مصطفیٰ اتاترک بھی لیبیا میں لڑتے رہے تھے۔ لیبیا میں فوجی تعینات کرنے سے عوام میں ماضی کی عظمت کے خواب دوبارہ بیدار ہوں گے اور ترک صدر اس کا سیاسی فائدہ اٹھائیں گے۔ لیکن اس سے بھی بڑا فائدہ ترکی کو مشرقی بحیرہ روم کے گیس کے ذخائر کے حوالے سے ہو سکتا ہے۔

بحیرہ روم اور گیس کے ذخائر

ترکی لیبیا کے ساتھ فوجی معاہدے کے تحت اپنے معاشی مفادات کا فائدہ بھی دیکھ رہا ہے۔ فائز السراج کے ساتھ ہونے والا معاہدہ فوجی تعاون سے بھی کچھ زیادہ ہے۔ فائز السراج نے بین الاقوامی سمندری حدود کے حوالے سے بھی ترکی کے ساتھ ایک نکتے پر اتفاق کیا ہے، جس  کے تحت ترکی کو قبرص کے جنوبی ساحل پر دس برس پہلے دریافت ہونے والے گیس کے وسیع ذخائر تک براہ راست رسائی حاصل ہو جائے گی۔

لیکن دس برس قبل دریافت ہونے والے گیس کے یہ ذخائر ایک بہت بڑے تنازعے میں بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ بحیرہ روم کا تیسرا بڑا جزیرہ قبرص 1974ء سے ترکی اور یونان کے مابین تقسیم ہے۔ اس کے شمالی حصے پر ترکی کا کنٹرول ہے جبکہ جنوبی حصے پر یونان کی حکومت ہے۔

یونان کے زیر کنٹرول قبرص (ریپبلک آف سائپرس) کی حکومت نے ایک قانون بنایا تھا کہ اس کے ساحل سے دو سو سمندری میل کے اندر اندر ان کی اجازت سے کوئی بھی کمپنی یا ملک ذخائر دریافت کر سکتا ہے اور ملنے والے قدرتی ذخائر ریپبلک آف سائپرس کی ملکیت ہوں گے۔ دوسری جانب انقرہ حکومت بھی ایسا ہی ایک دعویٰ کرتی ہے کیوں کہ نصف قبرص ان کے زیر انتظام ہے۔    

 تاہم بین الاقوامی برادری نے ترکی کے زیر کنٹرول شمال قبرص کو ابھی تک ایک خود مختار ریاست تسلیم نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ اس خطے کے دیگر ممالک ترکی کے ان ذخائر پر دعوے کو مسترد کر رہے ہیں۔

حیران کن طور پر جس دن ترکی نے لیبیا میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی کی پارلیمانی منظوری دی، اسی دن اسرائیل، قبرص اور یونان نے ایک مشترکہ معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد ‘ایسٹ مڈ گیس پائپ لائن‘ کے منصوبے کو آگے بڑھانا ہے۔ اس 1900 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن کے ذریعے اسرائیل اور قبرص یونان کے ساتھ ساتھ اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کو گیس فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ گیس کے حوالے سے یورپ کا انحصار روس پر ہے۔ یورپ کی بھی خواہش کے کہ ان کے پاس روس کا کوئی متبادل موجود ہو۔ مگر اب ترکی  کی سمندری حدود لیبیا سے ملنے کےبعد ترکی کے بغیراس منصوبے کو عملی جامہ نہین پہنایا جا سکتا۔

گیس کے ذخائر کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں کبھی بھی اسرائیل، یونان اور قبرص نے ترکی کو شامل ہونے کی دعوت نہیں دی۔ لیکن لیبیا کے ساتھ معاہدے کے تحت ترکی بحیرہ روم کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔

Facebook Comments
Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے