مئی 24, 2020
  • Home
  • فیچرز
  • تیل کی جنگ سعودی عرب نے امریکا -روس کے خلاف شروع کی۔تحقیقی رپورٹ

تیل کی جنگ سعودی عرب نے امریکا -روس کے خلاف شروع کی۔تحقیقی رپورٹ

By on اپریل 21, 2020 0 479 Views

عاصم چوہدری

آج سے تقریبا سوا مہینہ قبل 8مارچ کو جب سعودی عرب نے تیل کی جنگ شروع کی تھی تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کا آخری نشانہ امریکا ہوگا مگر امریکا کو اچھی طرح اندازہ تھا اسی باعث ٹرمپ نے فورا ہی سعودی عرب اور روس کےدرمیان مصالحت شروع کرائی تھی مگر ہونی ہو کر رہی اور امریکی تیل مارکیٹ کریش کرگئی ہے۔سعودی عرب نے مارچ کے شروع میں اپنےتیل کی قیمت65فیصد کم کر کے روس کو جھٹکا دیا تھا کیونکہ روس کسی بھی طور پر اپنی تیل کی پیداوار کم کرنے پر تیار نہیں تھا اور کرونا وائرس کےلاک ڈائون اور کچھ عالمی معیشت کی گرواٹ کی وجہ سے تیل کی کھپت کم ہوچکی تھی۔ اس باعث تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا مشکل ہورہا تھا۔اصل میں یہ کھیل کئی سال قبل شروع ہوا تھا جب روس اور امریکا نے سعودی عرب کے ساتھ دھوکہ کیا اور اس کے بعد اب سعودی عرب تیل کی مارکیٹ تباہ کر کے روس اور امریکا سے بدلہ لے رہا ہے۔روس سے سعودی اختلاف یمن اور شام کی جنگ پر ہے جہاں روس نے ایران کا ساتھ دیا۔ باوجود اس کے کہ سعودی عرب نےروس سے بھاری رقم کا اسلحہ خریدا۔ امریکا نے بھی سعودی عرب کے ساتھ یہی کچھ کیا اور ایران پر حملہ نہیں کیا۔

روس کو اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے تیل فروخت کرنا لازمی ہے جب کہ امریکا جو کہ شیل آئل کی پیداوار میں خود کفیل ہے، پیداواری لاگت زیادہ ہونے کے باعث سستا تیل نہیں فروخت کرسکتا اور اس کے لئے لازمی ہے کہ اوپیک و نان اوپیک تیل کی قیمت امریکی تیل کے قریب ہی رہے۔ مگر اس کھیل کو سعودی عرب نے قیمتیں کم کر کے خراب کردیا اور اس وقت امریکی تیل کمپنیاں نا صرف مفت تیل فراہم کرنے پر مجبور ہیں بلکہ شپنگ اخراجات بھی ادا کررہی ہیں تاکہ انہیں تیل ذخیرہ نا کرنا پڑے اور خریدار وہ لے جائے۔

آئل انڈسٹری کا سٹرکچر 3 اقسام کا ہوتا ہے- جن کو ہم اپ سٹریم، ڈاؤن سٹریم اور مڈسٹریم کہتے ہیں- اپ سٹریم کمپنیز کا کام تیل کی تلاش کے لیئے مختلف سروے کرنا، کنویں کھودنا اور تیل نکالنا وغیرہ ہوتا ہے- مڈسٹریم کمپنی کا کام ان اپ سٹریم کمپنیز سے تیل خرید کر اس کو ڈاؤن سٹریم کمپنیز تک پہنچانا ہوتا ہے یعنی یہ کوریئر سروس کا کام کرتی ہیں جبکہ ڈاؤن سٹریم کمپنیز کے ذمے اس کروڈ آئل کی ریفایئنگ اور اس کی ڈسٹری بیوشن ہوتی ہے-

جو کروڈ آئل اپ سٹریم کمپنیاں نکالتی ہیں اور وہ مڈسٹریم کمپنیوں کی مدد سے ڈاؤن سٹریم تک پہنچتا ہے تو اس کروڈ کی ورائٹی سب سے پہلے چیک کی جاتی ہے- کروڈ کی ورائٹی کا انحصار 4 سے 5 چیزوں پر ہوتا ہے- ان میں نمبر 1 وہ کروڈ آئل نکل کہاں سے رہا ہے، نمبر 2 اس کی اے پی آئی گریویٹی، نمبر 3 اس کی طیران پذیری، نمبر 4 تیل میں سلفر کی مقدار اور نمبر 5 اس کی تھکنیس- ان چیزوں کی بنیاد پر آئل کی کوالٹی کو ناپا جاتا ہے-

یہاں کچھ ٹینیکل ٹرمز کا بتاتا چلوں اے پی آئی گریویٹی کو امریکن پٹرولیم انسیٹیویٹ گریویٹی کہتے ہیں اور اس گریویٹی کا مطلب ہے کہ یہ تیل پانی سے کتنا بھاری یا ہلکا ہے- جبکہ سلفر تیل میں عام طور پر ہائیدروجن سلفایئڈ کی شکل میں حل ہوتا ہے- اور اس کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی وہ تیل کی ایفی شینسی کو اتنا کم کردے گی- طیران پذیری سے مراد اس تیل کا عام درجہ حرارت پر بخارات میں تبدیل ہونا ہے-

کروڈ آئل کی کوالٹی کا بنیادی انحصار ان 5 فیکٹرز میں سے 2 فیکٹرز پر ہوتا ہے ایک اے پی آئی گریویٹی اور دوسرا سلفر کی مقدار- جس تیل کی اے پی آئی گریویٹی 10 سے زیادہ ہو اس کو اچھا تیل مانا جاتا ہے لہذا جتنی اے پی آئی گریویٹی زیادہ ہوگی اتنا ہی تیل اچھا مانا جاتا ہے اسی طرح سلفر کی مقدار بھی جتنی کسی آئل میں کم ہوگی وہ تیل اتنا ہی اچھا مانا جاتا ہے-

ان فیکٹرز کی بنیاد کروڈ آئل کی کوالٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کروڈ آئل کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں 2 اقسام سب سے زیادہ مشہور ہیں جن کو ڈبلیو ٹی آئی آئل اور برینٹ آئل کہتے ہیں-برینٹ آئل کو یو کے ورژن بھی کہتے ہیں- برینٹ آئل شمالی سمندر جو کہ ناروے اور شیٹھ لینڈ کے درمیان واقع ہیں وہاں موجود تیل کے کنوؤں سے نکلتا ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی امریکہ کی ریاست ٹیکساس، لیوسی آنہ اور شمالی ڈکوتا کو ظاہر کرتا ہے-اور اس کو امریکن ورژن بھی کہتے ہیں

ان دونوں کروڈ آئل میں فرق بنیادی طور انکی کوالٹی کے لحاظ سے کیا جاتا ہے- جیسے ڈبلیو ٹی آئی کی کوالٹی برینٹ کے مقابلے میں اچھی ہوتی ہے- لیکن اس کے باوجود برینٹ کی قیمت عالمی مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے- اس کی 2 سے 3 بنیادی وجوہات ہیں-پہلی وجہ ڈبلیو ٹی آئی اپ سٹریم کمپنیوں سے ڈاؤن سٹریم کمپنیوں تک جاتے ٹراسنپورٹیشن کاسٹ انتہائی کم پڑتی ہے- اور دوسرا دنیا میں 67 فیصد آئل برینٹ آئل پیدا ہوتا ہے- اور تیسری وجہ ڈیزل کی پروڈکشن کے لیئے برینٹ آئل کو ڈبلیو ٹی آئی آئل سے زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے-یہی وجہ ہے کہ برینٹ آئل کو ڈبلیو ٹی آئی آئل پر فوقیت حاصل ہے-

برینٹ آئل میں اپ سٹریم کمپنیوں سے ڈاؤن سٹریم کمپنیوں تک ٹرانسپورٹیشن کاسٹ زیادہ ہوتی ہے اور دوسرا 67 فیصد دنیا میں برینٹ پیدا ہوتا ہے-تیسرا یہ ڈیزل کی پروڈکشن کے لیئے پریفر کیا جاتا ہے- لہذا اوپیک سمیت تقریبا میجورٹی آئل پیدا کرنے ممالک بینچ مارک ہمیشہ برینٹ آئل کو ہی استعمال کرتے ہیں- یعنی برینٹ آئل کی بنیاد پر آئل کی قیمتوں کو سیٹ کرتے ہیں-جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی مارکیٹ امریکہ کینیڈا وغیرہ میں زیادہ ہے لہذا امریکہ میں بینچ مارک ڈبلیو ٹی آئی کو لیا جاتا ہے-یاد رہے امریکہ اوپیک کا حصہ نہیں ہے-

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمت کیسے کم یا زیادہ ہوتی ہے تو اس کی کچھ بنیادی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں اس میں سب سے پہلے جس چیز کو اہمیت حاصل ہے وہ ہے گلوبل اکانومی- گلوبل اکانومی اگر بوسٹ کرے گی تو تیل کی ڈیمانڈ بڑھے گی اور ڈیمانڈ بڑھنے سے تیل کی قیمت بڑھے گی- اگر گلوبل اکانومی زوال کا شکار ہو یعنی اس کا مطلب ہے کہ فیکٹریز بند ہیں یا پھر فیکٹریز کی کھپت کم ہے- تو تیل کی ڈیمانڈ کم ہوگی اور ڈیمانڈ کم ہونے سے تیل کی قیمت خود ہی کم ہوجائے گی-

دوسری چیز خطے میں عدم استحکام ہے- مثلا آپ نے پچھلے دنوں دیکھا ایران اور سعودیہ کی چقلش کی وجہ سے تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں زیادہ ہوگئی- اب زیادہ تیل کی قیمتوں کا فائدہ ڈائریکٹ امریکہ کو ہوتا ہے- کیونکہ امریکہ کی آئل کی پروڈکشن شیل آئل پرانحصار کرتی ہے-اور شیل آئل عام ریفائنری آئل سے مہنگا ہوتا ہے اگر تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں کم ہوگی تو امریکہ سے کوئی تیل خریدے گا ہی نہیں-لہذا گلف میں ایک جنگ کی سی کیفیت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کو بڑھا کر رکھتی ہے اور یوں امریکہ کو اپنا تیل بیچنے میں آسانی رہتی ہے-

تیسری چیز جو تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے وہ اوپیک اور نان اوپیک اور تیسری پارٹی کے درمیان ایک رشہ کشی ہے-شائد دسمبر2016 کی بات ہے کہ تب نان اوپیک اور اوپیک ممالک میں ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت تیل کی قیمت کو سٹیبل رکھنے کے لیئے تیل کی سپلائی کی ایک مقدار فکس رکھنے کا اعلان کیا گیا- اس میں 15 ممالک اوپیک کے اور 10 ممالک نان اوپیک کے شامل تھے جن میں روس بھی شامل تھا- اس معاہدے کو اوپیک پلس کا نام دیا گیا- امریکہ اس معاہدے کا حصہ نہیں تھا بلکہ وہ اس اوپیک پلس کا کمپیٹیٹر تھا-

اب کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں فیکٹریز، ٹرانسپورٹ کا استعمال چونکہ انتہائی کم ترین سطح پر چلی گئی ہیں جس سے آئل کی کھپت کم ہوگئی لیکن تیل کی سپلائی اتنی ہی تھی جبکہ ڈیمانڈ کم ہوگئی- جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں کم ہوگئی- مارچ میں اوپیک پلس کی تیل کی قیمت کو سٹیبل رکھنے کے لیئے سپلائی کم کرنے کے بارے میں سوچا گیا- تو اس کے لیئے ایک میٹنگ بلائی گئی لیکن اس میٹنگ میں روس نے تیل کی پیداوار کم کرنے سے انکار کردیا بلکہ تیل کی پیدوار اور زیادہ بڑھانے کا اعلان کردیا جس سے تیل کی قیمت مزید کم ہوگئی- یہاں ہم برینٹ آئل کی بات کررہے- اس وقت برینٹ تقریبا 25 ڈالر فی بیرل کے لحاظ سے فروخت ہورہا ہے-

اب روس کے ایسا کرنے کی وجہ صرف امریکہ کی اکانومی کو تباہ کرنا تھا- کیونکہ 2015 میں روس میں جو معاشی بحران آیا اس کے پیچھے امریکہ تھا تب روس کے تھنک ٹینک نے یہ سوچا کہ اگر امریکہ کو لگام ڈالنی ہے تو امریکہ کی اکانومی کو ہی قابو کرنا پڑے گا- لہذا روس نے 2015 کے بعد اپنے بجٹ میں کٹ لگا کر ایک مخصوص مقدار ہر سال بچانا شروع کردی- اور 5 سال اس نے اپنے بجٹ سے پیسے بچائے- اور 2020 میں اس نے تیل کی قیمتیں گرادی- اب تیل کی قیمتیں گرانے سے روس کی کمپنیوں کو بھی نقصان ہوگا لیکن روس نے اس نقصان کو کور اپ کرنے کے لیئے اپنی انڈسٹری کو سبسڈی دے گا۔ایسا ہی سعودی عرب نے بھی کیا ہے- سعودی عرب اور روس نے اس تیل کی جنگ کی اتنی تیاری کی ہوئی ہے کہ وہ اس تیل کی جنگ کو سال، 2 سال تک جاری رکھ سکتا ہے- اس سے امریکہ کے مہنگے تیل کو کوئی خرید نہیں کررہا- اور یوں امریکہ تیل کی کمپنیاں یہ نقصان نہیں برداشت کرپارہی اورکل تیل کی کمپنیاں کریش کرگئیں-

Facebook Comments
Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے