مئی 24, 2020
  • Home
  • فیچرز
  • حامد میر نے مولانا طارق جمیل کو کیوں ٹارگٹ کیا؟ اہم انکشافات

حامد میر نے مولانا طارق جمیل کو کیوں ٹارگٹ کیا؟ اہم انکشافات

By on اپریل 27, 2020 1 8175 Views

احوال رپورٹ

ٹھیک تین روز قبل معروف مبلغ مولانا طارق جمیل نے ایک لائیو ٹیلی تھون میں شرکت کی۔ وہ اپنی رقت آمیز دعا کے لیے بھی مشہور ہیں۔ اور ہر سیاسی و غیر سیاسی معروف شخصیات سے میل جول رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں، اس سے قبل بھی  وہ کچھ عرصے سے تواتر سے ٹی وی پر نظرآرہے تھے۔ مگر اس بار ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ ان کی دعا ختم ہوتے ہی میڈٰیا کےایک حصے نے مولانا پر تابڑ توڑ حملے شروع کردئے اور مولانا کو جان کی امان پانے کے لئے ٹی وی پر لائیو آ کر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنی پڑی جس کے بعد معروف صحافی حامد میر نے انتہائی اہانت بھرے انداز میں ایک ٹوئیٹ کیا جس میں کہا کہ مولانا نے معافی مانگ لی اور تسلیم کیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، اس لئے ہم نے ان سے مزید بحث نہیں کی، اس کے بعد حامد میر نے ہی آج ایک کالم لکھا ہے جس میں بین السطور مولانا کو درباری مولوی اور گمراہ قرار دیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ ہدایت یافتہ عالم کون ہے۔اس سارے معاملے پر لوگ سمجھ رہے ہیں کہ مولانا کی طرف سے چند فقرے اس کی وجہ بنے مگر پوشیدہ حقائق کچھ اور ہیں اور مولانا طارق جمیل کو نشانہ بنانے کےلئے منصوبہ بندی کافی پہلےسےچل رہی تھی۔ اگر آپ پروگرام کو غور سے دیکھیں تو  مولانا نے جیسے ہی دعا شروع کرائی ایک خاتون اینکر سمیت چند لوگ دلجمعی سے دعا میں شریک ہیں اور چند افراد بمع حامد میر کے چہرے پر ناگواریت واضح ہے۔ مولانا کی دعا پر حامد میر نے ہاتھ تک اٹھانا گوارا نہیں کئے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا  کے جملے ناگوار نہیں انکی شخصیت اور مصروفیات چند افراد کو ہضم نہیں ہورہی ہیں۔ یہ مصروفیات کیا ہیں اور مولانا ایسا کیا کررہے ہیں کہ جو حامد میر اینڈ کمپنی کو ہضم نہیں ہورہا،بتانے سے قبل میں آپکو حامد  میر کے ماضی کےچند جھروکے دکھاتا چلوں۔سقوط ڈھاکہ کی جنگ کے دوران ان کےوالد گرامی پروفیسر وارث میر پاکستانی فوج کے خلاف تھے اور باقاعدہ مہم چلا رہے تھے۔ اسی بنیاد پر پاکستان کی دشمن، بنگلہ دیش کی موجودہ وزیر اعظم حسینہ واجد نے حامد میر کو ڈھاکہ بلا کر اعزازی تمغہ عطا کیا تھا۔ حامد میر خود بھی پاک فوج کےخلاف متنازع خبروں اور الزامات کے حوالے سےمشہور ہیں۔ ان پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس کا براہ راست الزام انہوں نے پاکستانی خفیہ ادارے پر لگا دیا تھا۔حامد میر اسامہ بن لادن کا انٹرویو کرنے پر مشہور ہوئے تھے مگرکہا جاتا ہے کہ یہ انٹرویو خود سی آئی اے نے ارینج کرایا تھا کیونکہ دنیا کے سب سےمطلوب دہشت گرد کے انٹرویو کے باوجود نا تو حامد میر کی ڈی بریفنگ ہوئی  اور نا ہی کوئی مطالبہ سامنے آیا۔ اس کے علاوہ بھی حامد میر بہت سے متنازعہ افعال کے لئے معروف ہیں جن میں سب سے مشہور کیپٹن صفدر اور مریم نواز اسٹوری  ہے، کہاجاتا ہے کہ میر صاحب یہ اسٹوری لے کر بے نظیر بھٹو کے پاس پہنچے تھے مگر بی بی نے اسے اخلاق سے گرا ہوا قرار دے کر قبول کرنے سےانکار کردیا تھا بعد میں یہی اسٹوری دیگر جگہوں پر فروخت کی گئی۔

اب آتے ہیں حامد میر اور مولانا طارق جمیل کے قصے پر۔ مولانا طارق جمیل مبلغ ہونے کے ناطے ہر حکمران  سے ملتے اور اسے دین کی تبلیغ کرتے ہیں، اس سے قبل بھی وہ شریف خاندان کے بہت قریب تھے اور ہیں، نواز شریف کی مرحوم اہلیہ کی نماز جنازہ بھی مولانا نے ہی پڑھائی تھی۔ شریف خاندان نے مولانا سے تعلقات کو مگر سیاسی اسٹیج پر زیادہ پروموٹ نہیں کیا۔اسی طرح مولانا معروف ماڈلز، ایکٹریسز، اور حتی کہ طوائفوں کے بھی بہت ہی قریب ہیں، انہیں اپنی بیٹی قرار دیتے ہیں، ان کی شادیاں کراتے ہیں، مالی مدد کرتے ہیں اور گناہ کی دلدل سے نکالنے میں خاموشی سے مدد دیتے ہیں۔ بلا مبالغہ ایسی سینکڑوں لڑکیاں مولانا کی زیر کفالت بھی ہیں۔ ایسی شخصیت پر یہ الزام لگانا کہ انہوں نے سب عورتوں کو فاحشہ قرار دیا ہے، ایک بے ہودہ مذاق سے کم  نہیں۔ دوسری طرف مولانا اور عمران خان کے درمیان تعلقات کی نوعیت کچھ زیادہ ہی قریبی اور سیاسی ہوچکی ہے اور اس کی بنیادی وجہ عمران خان کی جارحانہ پیش قدمی ہے۔ عمران خان کی نفسیات یہ ہےکہ وہ اپنے مقصد کے لئے ہر دستیاب وسائل کو جارحانہ انداز سے استعمال کرتا ہے۔ اب جب کہ وہ مدینہ کی ریاست تشکیل دینے کے لئے سرگرم ہے تو وہ بااعتماد علما کو جارحانہ انداز میں فرنٹ پر استعمال کررہا ہے کہ وہ عوام کووعظ  و نصیحت کریں۔ دین کی تعلیم دیں۔ کرپشن سے بچنے کی ترغیب دیں۔ چونکہ عمران خان تیزی سے مذہب کی طرف جا رہے ہیں،اسی وجہ سے انہوں نے جب مولانا سے ملاقات کی اور ان کے گرویدہ ہوگئے تو پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ مولانا طارق جمیل نے عمران خان کی حکومت سنبھالنے سے قبل ایک ملاقات میں عمران کو بتایا تھا کہ لفظ سونامی استعمال نا کرے، اس کے بعد سےشاید ہی کسی نےعمران خان سے سونامی لفظ سنا ہو، حالانکہ اس سے قبل وہ اپنی تحریک کےلئے یہی لفظ استعمال کرتا تھا۔ مولانا طارق جمیل بھی کھلے عام یہ کہتے ہیں کہ وہ عمران خان سے اس لئے محبت کرتے ہیں کہ وہ مدینہ کی ریاست کی بات کرتا ہے۔ تو یہ وہ بنیادی وجہ تھی جس کی وجہ سے حامد میر اینڈ کمپنی نے مولانا طارق جمیل کو ٹارگٹ کیا۔ حامد میر اور ان کے ساتھی عمران خان کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور مولانا طارق جمیل کی طرف سے کھل کر عمران کی حمایت کرنے پر وہ سخت غصے میں موقع کی تلاش میں تھے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہےکہ مولانا طارق جمیل شریف خاندان کے بھی تو بہت قریب ہیں۔ عمران خان کےورکر جو سیاسی مخالفین کو سوشل میڈیا پر لتاڑنے کے لئے خوب معروف ہیں، وہ شریف خاندان سے ملنے پر کیوں مولانا طارق جمیل کو بخش دیتے ہیں؟ اس کا جواب مجھے اس وقت ملا جب مولانا طارق جمیل کلثوام نواز کا جنازہ پڑھانے گئے تھے اور یہ بات پی ٹی آئی ورکرز کو گراں گزری کیونکہ وہ طارق جمیل کو اپنے گڑھے کی مچھلی سمجھ رہے تھے۔ جب انہوں نے مولانا پر تبرا شروع کیا تو عمران خان بہت ناراض ہوا اور سختی سے منع کیا کہ مولانا کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔ یوں مولانا محفوظ رہے۔عمران خان کی وزارت میں ایک تقریب خاندانی منصوبہ بندی کی تھی جس میں مولانا کو مدعو کیا گیا اور اس تقریب میں مولانا نے کھل کر کہا کہ عمران خان انہیں پسند ہے کیونکہ وہ مدینہ کی ریاست کی بات کرتا ہے۔ اس دن سے بہت سے لوگ مولانا کو ناپسند کرنے لگے اور دبے الفاظ میں مولانا سے کہا گیا کہ وہ سیاسی مولوی نا بنیں اور عمران سے دور رہیں۔ اس کے بعد عمران خان نے اقوام متحدہ میں توہین رسالت کا معاملہ اٹھایا جس پر مولانا نے کہا وہ عمران خان کےعشق میں مبتلا ہوگئے  ہیں۔کرونا لاک ڈائون کے معاملے پر بھی عمران خان نے مولانا طارق جمیل سے مشورہ کیا۔ یہاں پر عمران خان کے مخالفین کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور وہ مولانا پر کھل کر تنقید کرنے لگے۔لائیو ٹیلی تھون کے دوران انہیں ایسا موقع مل گیا جس پر انہوں نے مولانا کو خوب سنائیں اور وہ معافی مانگ کر جان بچانے پر مجبور ہوئے۔ حالانکہ مولانا ہر دور میں ہی حکمران کو تبلیغ کرتے رہے ہیں اور نواز شریف انہیں بلا کر پارلیمان میں تقاریر بھی کراتے تھے۔ مگر عمران خان کےمخالفین یہ برداشت نہیں کرپا رہے ہیں کہ طارق جمیل عمران خان کی تعریف کریں۔

اس حکومت میں مولانا کے زیادہ سرگرم ہونے کی ایک وجہ اور بھی ہے جس پر میں زیادہ نہیں لکھوں گاکہ یہ قومی سلامتی سے متعلق ہے۔ پاکستان کا چہرہ دنیا کے سامنے اسلام پسند ملک کا ہے،جہادی قوتوں۔امریکی جنگ کی وجہ سے یہ اسلام پسندی شدت پسندی کا نظریہ لے کر دنیا کے سامنے آئی تھی، اب چونکہ حالات تقریبا نارمل  ہوچکے ہیں، دنیا کے سامنےاعتدال پسند اور پر امن اسلام کا چہرہ پیش کرنا ہی وقت کا تقاضہ ہے اور یہ چہرہ مولانا جیسے مبلغین ہی پیش کررہے ہیں جنہیں پوری دنیا احترام سے دیکھتی ہے۔

بہرحال مولانا نے تو مخالفین کو جواب دینے کے بجائے اپنی عادت کے مطابق معذرت  کرلی اور خاموش ہوگئے مگر مولانا کی طرف سے وہ لاکھوں لوگ سوشل میڈیا پر جواب دے رہے ہیں جنہیں اس سے قبل کبھی اسلام سے متعلق بات کرتے نہیں دیکھا گیا۔ یقیننا مولانا کی تبلیغ رنگ لا رہی ہے۔

Facebook Comments
1 Comment
Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے