مئی 24, 2020
  • Home
  • ریسرچ رپورٹس
  • دجال کی آمد۔ کرونا ویکسین کے ذریعے ہر انسان میں کمپیوٹر چپ نصب ہوگی

دجال کی آمد۔ کرونا ویکسین کے ذریعے ہر انسان میں کمپیوٹر چپ نصب ہوگی

By on اپریل 30, 2020 0 8264 Views

احوال رپورٹ

یہ اپریل دو ہزار بیس تھا، پوری دنیا بند اور کرونا وائرس تیزی سےپھیل رہا تھا ۔ دنیا کا ہر شخص انسانی تاریخ میں پہلی بار اس وائرس سے خوفزدہ ہو کر گھر میں قید تھا۔ایسے میں دنیا کے معتبر ترین، معروف یہودی جریدے، دی اکناموسٹ کا شمارہ منظر عام پر آیا تو بہت سےلوگ ٹھٹھک کر رہ گئے۔اس شمارے میں یہودی جریدے نے پانچ اہم انکشاف کئے ہیں۔ یہ پانچ باتیں پہلے سے ہی سرگوشیوں میں دنیا بھر میں کی جا رہی تھیں اور اکناموسٹ نے ان کی  یہ کہہ کر تصدیق کی ہے کہ یہ سب اب ضروری ہے اور یہی دنیا کی تقدیر ہے۔اکناموسٹ کی اسٹوری میں یہ پانچ باتیں کی گئی  ہیں:

1  ہر چیز کنٹرول میں ہے

2  عالمی حکومت

3  آزادی

4  وائرس

5  اس سال موسم سرما کا خاتمہ

اس پانچ کی تفصیل میں جانے سے قبل ہم کرونا ویکسین پر کچھ بات کرلیتے ہیں۔ اس وقت مائیکروسافٹ کا بانی بل گیٹس اربوں ڈالر کا ایک  منصوبہ چلا رہا ہے جس کا مقصد ویکسین تیار کرنا ہے۔ بل گیٹس کا تعلق کمپیوٹرٹیکنالوجی سے ہے اور ویکسین کا تعلق میڈیسن سے ہے۔  مگر بل گیٹس کرونا وائرس سے بھی بہت پہلے سے ایک پروجیکٹ پر کام کررہا ہے جس کا مقصد کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور میڈیسن کو ملا کر ایک نینو بائیو کمپیوٹر چپ تیار کرنا ہے جسے ویکسین کے طور پر دنیا کے تمام انسانوں میں انجیکٹ کردیا جائے۔ اس طرح تمام انسانوں پر ہر وقت نظر رکھنا، انہیں کنٹرول کرنا۔ انہیں بیمار کرنا اور انہیں ٹھیک کرنا اور انہیں مارنے کا کنٹرول ایک ہی کنٹرول روم سے ممکن ہوجائے گا۔ یہ سیدھا سیدھا دجال کا کنٹرول ہے، جیسا کہ احادیث میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ اب کرونا وائرس کے نمودار ہونے سے قبل ہی ایسی فلمیں تواتر سےبنائی جا رہی تھیں، جس میں ایک وائرس دکھایا گیا تھا جو پوری دنیا کو کنٹرول میں لے لے گا۔ اکثر لوگ مر جائیں گے اور دنیا میں عالمی حکومت قائم ہو کر ویکسین تیار کرے گی۔

 اب چین میں وائرس نمودار ہوتے ہی بل گیٹس نے پوری دنیا میں اربوں ڈالر ویکسین کی تیاری کے لئے بانٹنے شروع کردئے ہیں۔یہ ویکسین جلد منظر عام پر آنے کا امکان کم ہے۔ ابھی خوف پھیلایا جا رہا ہے اور پوری دنیا بند کردی گئی ہے۔ اگلے پانچ برس میں جب تک دنیا آہستہ آہستہ کھلے گی، ہر شخص کے لئے کرونا ویکسین لازمی قرار دی اور پلائی جائے گی۔ پولیو ویکسین کے ذریعے  اس کی پریکٹس اچھی طرح کی گئی ہے۔ شاید بہت ہی کم افراد کو معلوم ہو کہ پولیو ویکسین بھی بل گیٹس کے مالی تعاون سے ہمارے دروازے تک پہنچتی ہے۔

 اکناموسٹ نے جو پوسٹر شائع کیا ہے اس میں پہلے نمبر پر لکھا ہے:

’’سب کچھ کنٹرول میں ہے‘‘

اس کے ساتھ ہی ایک خفیہ ہاتھ دکھایا گیا ہے جس نے رسی کے ذریعے پوری دنیا کی حکومتوں کو کنٹرول کررکھا ہے، حکومتوں نے آگے رسی کے ذریعے عوام کو کنٹرول کررکھا ہے۔ اب ایسی صورتحال میں جب کرونا وائرس بے قابو ہو کر تیزی سے پھیل رہا  ہے اور پوری دنیا بند ہے۔ وائرس کی ویکیسن موجود نہیں۔ یہودی جریدے کا یہ کہنا کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے، اس کا کیا مقصد ہے؟ یہ بات سمجھنے کے لئے آپ اسرائیلی وزیر دفاع اور اسرائیلی وزیر برائے مذہبی امور کے تازہ بیانات پڑھیں۔ وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی وائرس دنیا کے ستر فیصد افراد کو متاثر کرلے گا ختم ہوجائے گا، ہمیں اس سے کوئی پریشانی نہیں اور یہ ہمارے کنٹرول میں ہے۔ وزیر مذہبی امور کا کہنا ہے کہ وائرس ہماری عالمی  حکومت کی ا بتدا ہے۔ یہی بات اکناموسٹ نے بھی دوسرے نمبر پر کہی ہے:

’’عالمی حکومت‘‘

اکناموسٹ کے کور  پیچ پر شائع پوسٹر میں جو خفیہ ہاتھ دنیا کو  کنٹرول کرتے دکھایا گیا ہے یہی عالمی حکومت ہے۔اسی بڑی اور خفیہ حکومت کو یہودی دانا  بزرگوں کی خفیہ دستاویز’’ دی الیومینائی پروٹوکولز‘‘ میں بار بار سپر گورنمنٹ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ اس پروٹوکولز کےمطابق پوری دنیا میں ایک ہی سپر حکومت ہوگی، جو سب انسانوں پر حکمرانی کرے گی اور اس کا سربراہ دجال ہوگا جو یہودیوں کا مسیحا بن کر آئے گا۔ اس وقت اقوام متحدہ کسی درجے میں عالمی حکومت کے طور پر کام کررہی ہے اور اس کی تمام وزارتیں بھی موجود ہیں اور اکثر اہم درجات پر یہودی ہی متمکن ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کو بھی کرونا وائرس لاک ڈائون کے حوالے سے ہدایات بھی اقوام متحدہ ہی دے رہی ہے۔ ویکسین کی تقسیم اور اس پر عمل درآمد بھی اقوام متحدہ نے ہی کرنا ہے۔ بہت سے عالمی رہنمائوں بشمول برطانوی وزیر اعظم نے بھی اب کھل کر ایک عالمی حکومت کی وکالت شروع کردی ہےاور اس کو انسانیت کی بقا کے لئے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

’’آزادی‘‘

اکناموسٹ نے تیسرے نمبر پر جو لفظ آزادی استعمال کیا ہے اس کا مطلب عام آدمی کی آزادی نہیں بلکہ ان تیرہ یہودی خاندانوں کی آزادی ہے جو اس وقت دنیا کو کنٹرول کررہے ہیں اور یہی اصل النسل یہودی سمجھے جاتے ہیں۔ یہی افراد عالمی بینک، آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کو فنڈنگ اور پالیسی کے زریعے دنیا کی زراعت، معیشت اور دیگر امور کا فیصلہ کرتےہیں اور انہیں دنیا کی قسمت تباہ کرنےیا بنانے کی آزادی ہے۔

وائرس

اکناموسٹ نے اپنے اشاروں میں وائرس کا بھی ذکر کیا ہے۔وائرس سے کیا مراد ہوسکتی ہے؟ جریدے نے خود اس پر کچھ نہیں  لکھا۔ اس کے ذریعے  دجالی گروہ کو اشارہ دیا ہے۔ دنیا جب کرونا سے تھر تھر کانپ رہی ہے ایسے میں اکناموسٹ کا یہ کہنا ہے کہ ہر چیز قابو میں ہے۔ یہی بات یہودی وزیر بھی کہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پردے کے پیچھے ایسا بہت کچھ ہے جو وہ جانتے ہیں اور اسی لیے وہ کہہ رہے ہیں کہ وائرس ہمارے کنٹرول میں ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل میں لاک ڈائون کی وہ کیفیت نہیں جو دنیا بھر میں ہے۔

’’اس سال سردی نہیں آئے گی‘‘

یہ ہےپانچواں اشارہ جو اکناموسٹ نےدیا ہے۔ بہت برس قبل جب ایسے وائرس پر فلم ’’ دی کونٹینجینٹ‘‘ بنی تھی تو اس میں بھی بلکل یہی ڈائیلاگ تھا، ایک لڑکی وائرس ویکسین کی عدم دستیابی سے اکتا کر کہتی ہے کہ اس سال تو ہم موسم سرما کامزہ لے ہی نہیں سکے  کیونکہ وائرس کی وجہ سے ہم گھر میں قید ہیں۔

تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ کرونا وائرس ابھی سال کےآخر تک چلے گا اور اس برس  دنیا سردی میں بند رہے گی۔

یہ تو تھی بات یہودی جریدے دی اکناموسٹ کے تازہ شمارے کے اشاروں کی۔ مگر مزید دو اہم باتیں اس جریدے نے نہیں بتائیں۔ ہوسکتا ہے کہ اگلے شمارے میں وہ ان کی طرف بھی اشارہ دے۔ یہ دو باتیں ہیں:

کرونا ویکسین نینو چپ

پانچ جی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی

اوپر ہم بتا چکے ہیں کہ کرونا ویکسین کے لئے سب سے بڑی فنڈنگ بل گیٹس ہی کررہا ہے اور وہ بہت عرصے سے ایسی ویکسین کی بات کررہا ہے جس میں  نینو چپ شامل ہو۔ یعنی وائرس کی طرح کا نہایت ہی چھوٹا  کمپیوٹر چپ وائرس۔جو ناک یا منہ کے ذریعے دی گئی ویکسین کے ساتھ انسانی جسم میں جا کر بیٹھ جائے اور پھر اس کے ذریعے اس انسان کے جسم میں تبدیلی ۔ کنٹرول اور مانیٹر کیا جا سکے۔ انسانی  سوچ پڑھی جا سکے گی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ کرونا ویکسین بھی ناک یا منہ کے ذریعے ہی دی جائےگی۔ بل گیٹس کہتا ہے کہ وہ پوری دنیا کو ڈیجیٹلائز کرنا چاہتا ہے۔ کس طرح؟ اور کیوں؟ نینو چپ کے ذریعے اور دجال کے کنٹرول کے لئے۔

 سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ نینو چپ کیسے کام کرے گی، اس کو کمانڈز کہاں سے اور کیسے ملیں گی اور کیسے ڈیٹا اپنے کنٹرول روم کو پہنچائے گی؟ اس کا جواب ہے فائیو جی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ایک طرف پوری دنیا بند ہے  مگر دوسری طرح یورپ میں پر اسرار طور پر تیز رفتاری سے فائیو جی ٹیکنالوجی کے ٹاور ہر طرف  نصب کئے جا رہے ہیں۔ مقامی آبادی اس کی مزاحمت بھی کررہی ہے اور  ان ٹاورز کو نقصان دہ قرار دے کر تباہ بھی کررہی ہے مگر پھر بھی کام جاری ہے۔ پاکستان میں بھی موبائل کمپنیاں فائیوجی انٹرنیٹ کی طرف اشتہاری مہم کی ذریعے لوگوں کو متوجہ کررہی ہیں اور فائیو جی کی تیاریاں جاری ہیں۔فائیو جی ٹیکنالوجی دراصل بہت ہی تیز رفتار انٹرنیٹ ہے جو طبی طور پر انسانوں کے لئے بہت ہی نقصان دہ ہے مگر وہ  ہر انسان کے اندر موجود نینو چپ کا ڈیٹا اپنے کنٹرول روم تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے۔ دنیا میں دجال کو خوش آمدید کہنے کی تیاری عروج پر ہے۔ فتنہ دجال سے وہی بچ پائے گا جو اس  بارے میں جانتا ہوگا۔ اپنے علم کو بڑھائیے۔

Facebook Comments
Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے