مئی 24, 2020
  • Home
  • فیچرز
  • بھارتی چال الٹ گئی۔ عالمی جہادی مقبوضہ کشمیر میں داخل

بھارتی چال الٹ گئی۔ عالمی جہادی مقبوضہ کشمیر میں داخل

By on مئی 5, 2020 0 409 Views

احوال رپورٹ

نو رمضان المبارک کو بھارتی فوج کا ا یک گروپ مقبوضہ کشمیر میں اپنے کیمپ واقع ہندواڑہ سے باہر نکلا۔آرمی انٹلی جینس کے کرنل آتوش شرما اس گروپ کو لیڈ کررہے تھے جبکہ کمانڈو بٹالین کے میجر آنوج اپنے دستے کے ساتھ ان کو سیکورٹی دینے کے لئے ہمراہ تھے۔ ہندواڑہ ۔ سری نگر جانے والی اہم شاہ راہ پر موجود ہے جسے ہر حال میں محفوظ اور کھلا رکھنا بھارتی فوج کے لئے ضروری ہے۔ دو گاڑیوں پر مشتمل یہ دستہ اپنے کیمپ سے نکلنے کے کچھ دیر بعد ہی ہندواڑہ بائے پاس پر لاپتہ ہوگیا۔ کیمپ سے باہر گشت کرنے والے دستوں کی ایس او پیز کے مطابق دستے کے وائر لیس آپریٹر کو ہر تھوڑی دیر بعد رابطہ کرنا ضروری تھا، مگر وائرلیس سیٹ خاموش تھے، اس پر گھبرا کر جب ہیڈ کوارٹر نے کرنل شرما کے موبائل فون پر رابطہ کیا تو جواب میں کرنل شرما کے بجائے کسی ناموس آواز نے جواب دیا:

اسلام و علیکم۔ کرنل اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جہنم جا چکا ہے، وہیں رابطہ کریں۔

پھر فون بند ہوگیا۔

گوکہ کئی مہینوں کے لاک ڈائون اورآپریشن کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی نقل و حرکت تقریبا ختم ہوچکی ہے، قابل ذکر مقامی کمانڈر مارے جا چکے ہیں اور نئی مجاہدین کی آمد کی کوئی رپورٹس نہیں، پاکستان سے ملنے والے کنٹرول لائن مکمل سیل اور باڑھ لگانے کے علاوہ  اسرائیلی ریڈار اور تھرمل ایمیجرز نے کسی بھی کراسنگ کو ناممکن بنا رکھا ہے۔پھر پاکستان نے بھی انتہائی سختی سے کسی بھی فرد کو کنٹرول لائن کراس کرنے سے روک رکھا ہے۔اس صورتحال میں بھارتی فوج مقبوضہ وادی میں ریلیکس موڈ میں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آرمی انٹیلی جنس کے اعلی افسر کرنل شرما اپنے علاقے کا جائزہ لینے رات کے وقت باہر نکلے۔ علاقے میں ہی تعینات  کمانڈو بٹالین کے میجر انوج اپنے چند سپاہیوں کے ہمراہ ان کے ساتھ ہوگئے کہ سیکورٹی فراہم کریں۔ جلد ہی انہیں بائی پاس روڈ کے ایک موڑ پر مجاہدین نے اغوا کرلیا اور پیدل ہی اپنے ساتھ کھیتوں میں لے گئے۔بھارتی میڈیا اس سلسلے میں جو کہانی بیان کررہا ہے اس کے مطابق علاقے میں ہیومن انٹیلی جنس سے اطلاع ملی تھی کہ کچھ مجاہدین علاقے میں چند روز سے موجود ہیں۔ چونکہ بیرون کشمیر سے آنے والے مجاہدین کا سلسلہ عرصہ قبل ختم ہوچکا ہے، جس کے بعد تحریک کو کسی نا کسی طرح مقامی لڑکے ہی سنبھالے ہوئے تھے۔ ان کشمیری طلبا وغیرہ کو جنگ اورگوریلا جنگ کا کچھ بھی تجربہ نا تھا، اس کے برعکس وہ مسلح ہو کر سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر اور ویڈیوز وغیرہ کے ذریعے زیادہ متحرک تھے، ان میں خاص طور پر ذاکر موسی اور برہان وانی کا گروپ شامل ہے۔ یہ لوگ بھارتی مظالم کے ردعمل میں بغاوت تو کر بیٹھے مگر بھارتی فوج کا مقابلہ انکے بس کی بات نہیں تھی، لہذا بھارتی فوج نے انہیں آسانی سے تحریک کا آئیکون اور لیجنڈ بننے دیا پھر مکھی کی طرح مسل دیا تاکہ باقی لوگوں کے حوصلے  بھی ٹوٹ جائیں۔ کرنل شرما کا یہی خیال تھا کہ کچھ نئے مقامی لڑکے مسلح ہو کر گھوم رہے ہیں، وہ علاقے کا جائزہ اور مخبروں سےملاقات کے لئے باہر نکلے تھے مگر ان کا سامنا کسی اورمخلوق سےہوگیا اور یوں شکاری خود شکار  ہوگیا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہےکہ ہندواڑہ کا مذکورہ جہادی گروپ مقامی نہیں  بلکہ باہر سے وادی میں آیا ہے اور انتہائی خطرناک ہے۔ اس میں درجن بھر افراد بتائے جا رہے ہیں۔کہا جارہا ہے کہ بھارتی فوجی وردیوں میں ملبوس درجن بھر افراد نے کرنل شرما کا قافلہ روکا اور انہیں میجر انوج اور ساتھیوں کے ہمراہ اغوا کرلیا ، جلد ہی انہیں قریبی کھیتوں میں لے جا کر سائلنسر لگے ہتھیاروں سے قتل کردیا گیا۔ یہ رات کا وقت تھا اور بھارتی فوج کو  صورتحال سمجھنے اور علاقے کو گھیرنے میں کافی وقت لگا، اس کے بعد جو جھڑپ شروع ہوئی وہ تقریبا دو دن چلی، بعد میں بھارتی فوج کے چھ اہلکاروں کی لاشوں کے علاوہ دو مجاہدین کی لاشیں بھی برآمد  ہوئیں۔ یعنی باقی افراد بچ نکلنے میں پہلے ہی کامیاب ہوچکےتھے اور دو افراد نے بھارتی فوج کو الجھائے رکھا۔یہ یقننا نئی حکمت عملی ہے اور پہلے مقبوضہ وادی میں نہیں دیکھی گئی۔ تو آخر کون تھے یہ لوگ؟

امریکی تنظیم ٹیرر واچ دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیموں پر نظر رکھتی ہے، اس نے کئی ماہ قبل خبر دی تھی کہ افغانستان میں امریکی شکست اور طالبان کے ساتھ امن معاہدے کا فائدہ امریکہ کو ضرور ہوا ہے اور ہوگا مگر سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا بھارت ہوگا۔اس کی چند وجوہات ہیں۔

بھارت نے طالبان حکومت کو کبھی تسلیم نہیں کیا تھا اور ان کے باغی گروپس کی حمایت اور امداد کرتا رہا، یہاں تک کہ طالبان حکومت ختم ہوگئی اور امریکہ طالبان طویل جنگ شروع ہوئی، اس دوران بھی بھارتی حکومت اور فوج مسلسل طالبان کے خلاف سرگرم رہی۔ اس کا خیال تھا کہ طالبان ماضی بن چکے ہیں مگر طالبان ایک بار پھر حکومت بنانے کے قریب ہیں اور وہ بھارت کی دشمنی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔دوسری بات یہ ہے کہ طالبان خود کو اسلامی حکومت کہتے ہیں اور اب بھی امریکہ سے اپنے کو اسلامی امارات تسلیم کرانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس دوران کشمیری مسلسل اسلامی دنیا اور اسلامی اسکالرز سے بھارتی مظالم کے خلاف مدد کے لئے دہائی دیتے آرہے ہیں طالبان کے لئے اسے نظر انداز کرنے کا مطلب ہوگا طالبان اپنے بنیادی نظرئے سے ہٹ گئے ہیں۔تیسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ طالبان جنگ کے دوران پوری دنیا سے جہادی افغانستان پہنچے تھے اور شریک جنگ ہوئے، اب جب کہ جنگ ختم ہونے جارہی ہے اور امریکہ انخلا کر کے افغانستان طالبان کے حوالے کرنے پر آمادہ ہے۔ ان عالمی جہادیوں میں سے کچھ خشمگین نگاہوں سے بھارت کو دیکھ رہے ہیں اور وجہ بھارتی ہندو دہشت گرد تنظیموں اور حکومت کے مسلمانوں پر مظالم اور قتل عام ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ عالمی جہادی گروپس نے جہاد ہند کے نام سے اپنے علیحدہ چیپٹرز، یونٹس بھی بنا دئے ہیں اور ان کے ترجمان میگزین بھی شایع کرنا شروع کردئے ہیں۔

بھارتی انٹیلی جنس یہ سب قریب سے دیکھ رہی تھی، اس کو معلوم تھا کہ آنےوالے مہینوں میں سخت قسم کے جہادی جو طویل عرصے سے جنگ اور گوریلا حکمت عملی کے ماہر ہیں،  مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے سامنے پہنچنے والے ہیں، اسی معرکے کی تیاری کے سلسلے میں بھارت نے افراتفری میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرلیا تاکہ جب معرکہ شروع ہو تو بھارت دہائی دے سکے کہ یہ بھارت پر حملہ ہے نا کہ کسی متنازعہ علاقے میں تحریک آزادی۔ مگر بھارت کی یہ چال الٹ گئی اور طویل کرفیو، لاک ڈائون اور قتل عام نے پوری دنیا پر بھارتی مظالم مزید  واضح کردئے، اور پوری دنیا بھارت کی مذمت بھی کررہی ہے۔لگتا یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف نئی جدو جہد شروع ہونے جا رہی ہے مگر اس بار اس کھیل میں عالمی گروپس بھی شریک ہوں گے۔

Facebook Comments
Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے